خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 64

خطبات محمود 64 $1954 حضرت خلیفہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا تھی جو بہت نیک تھی۔ایک دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں کسی طرح اُس کی مدد کروں۔چنانچہ میں اُس بڑھیا کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ مائی! میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں کسی طرح تمہاری مدد کروں۔تمہیں کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ تا میں اسے پورا کر کے دل کی خوشی حاصل کروں۔اُس بڑھیا نے آپ کا نام لے کر کہا نورالدین! اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔آپ نے کہا مائی ! پھر بھی۔تم غریب عورت ہو اگر کسی طرح میں تمہاری مدد کر سکوں تو یہ بات میرے لیے بڑی خوشی کا موجب ہو گی۔مگر اُس بڑھیا نے پھر بھی یہی کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے مجھے کسی اور چیز کی خواہش نہیں۔فلاں شخص کے گھر سے دو روٹیاں آ جاتی ہیں۔ایک روٹی میں کھا لیتی ہوں اور ایک روٹی میرا بیٹا کھا لیتا ہے۔اور ایک لحاف ہمارے پاس ہے جس میں ہم دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے کی طرف پیٹھی کر کے سو جاتے ہیں۔جب میرا بازو تھک جاتا ہے تو میں اپنے بیٹے سے کہہ دیتی ہوں بیٹا! ذرا کروٹ بدل لو! تو وہ کروٹ بدل لیتا ہے اور اس طرح میں دوسرے پہلو پر سو جاتی ہوں اور جب لڑکے کا بازو تھک جاتا ہے تو وہ مجھ سے کہہ دیتا ہے ماں! ذرا کروٹ بدل لو، اور میں کروٹ بدل لیتی ہوں اور وہ دوسرے پہلو پر سو جاتا ہے۔بیٹا! بڑے مزے ہیں۔مجھے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔حضرت خلیفہ اسح الاول فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس قسم کی غربت میں بھی وہ کتنی خوش ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ نیکی کی وجہ سے اُسے کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔حضرت خلیفہ مسیح الاول فرماتے تھے کہ میں۔پھر اصرار کیا کہ مائی! پھر بھی تمہیں کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ میں اسے پورا کر کے ثواب حاصل کر سکوں۔اُس عورت نے کہا عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے میری نظر کمزور ہو گئی ہے۔میرے پاس جو قرآن کریم ہے وہ باریک لفظوں والا ہے میں تلاوت کرتی ہوں تو نظر تھک جاتی ہے۔رتم موٹے الفاظ والا قرآن کریم لا دو تو میں اپنی خواہش کے مطابق زیادہ دیر تک تلاوت کر سکوں۔حالت جو اطمینان کی ہوتی ہے دین کی وجہ سے نصیب ہوتی ہے اور اس وجہ سے نے