خطبات محمود (جلد 35) — Page 45
$1954 45 خطبات محمود پتا نہیں لگتا تھا۔پھر لفافہ میں سے ایک اور شفاف کاغذ نکلا جو Tracing Paper تھا۔میں اُسے دیکھنے لگا اور میں نے کہا یہ خبر ہے جو چودھری صاحب نے ہم تک پہنچانی چاہی ہے مگر بجائے کوئی واقعہ لکھنے کے اس کاغذ پر ایک لکیر کھنچی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ہوائی جہاز ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف جا رہا ہے۔آگے جا کر وہ لکیر یکدم اریبوی 1 صورت میں نیچے آجاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جہاز یکدم نیچے آ گیا ہے۔اس جگہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ رُکا ہے اور معاً Crashed کا لفظ میرے سامنے آتا ہے تو معا سمندر میرے سامنے آ جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ نیچے کچھ جزیرے ہیں۔مجھے نیچے کی طرف عملاً سمندر نظر آتا ہے۔اُس میں ہلکی ہلکی لہریں ہیں۔میں خواب میں کہتا ہوں کہ نہ معلوم چودھری صاحب کو تیرنا آتا ہے۔خدا کرے اس حادثہ کی خبر معلوم کر کے کسی حکومت نے ہوائی جہاز یا کشتیاں بچانے کے لیے بھیج دی ہوں تا کہ چودھری صاحب اور دوسرے لوگ بچ جائیں۔جب میں نے یہ رویا دیکھی اُس وقت قریباً دو بجے رات کا وقت تھا۔اُس دن میری بیوی مریم صدیقہ کی باری تھی اور وہ میرے پاس ہی دوسری چار پائی پر سوئی ہوئی تھیں۔میں نے انہیں جگایا اور کہا جلدی سے ایک خط لکھو۔چنانچہ میں نے اُسی وقت چودھری صاحب کو خط لکھوایا اور تحریر کیا کہ وہ کچھ صدقہ دے دیں۔فوراً بھی اور آتے ہوئے بھی اور اسی مضمون کی ایک تار بھی دے دی۔میں نے جب یہ رویا دیکھی تو چودھری صاحب امریکہ پہنچ چکے تھے اور میں نے رویا میں یہ نظارہ دیکھا تھا کہ چودھری صاحب مشرق سے مغرب کو جا رہے ہیں۔اگر وہ امریکہ سے پاکستان آ رہے ہوتے تو یہ سفر مشرق سے مغرب کو نہ ہوتا بلکہ مغرب سے آر۔مشرق کو ہوتا۔پھر میں نے رویا میں یہ دیکھا تھا کہ چودھری صاحب خود ہی اس حادثہ کی خبر دے رہے ہیں اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اگر اس حادثہ میں اُن کی جان کا نقصان ہے تو وہ اس کی خبر کیسے دے رہے ہیں؟ بہر حال میں نے اس خواب کی تین تعبیریں کیں۔اول یہ کہ کوئی حادثہ چودھری صاحب کو سخت مہلک پیش آنے والا ہے اور خدا تعالیٰ انہیں ! سے بچالے گا کیونکہ وہ خود اس حادثہ کے متعلق تبھی خبر دے سکتے ہیں جب وہ محفوظ ہوں۔دوسرے میں نے یہ تعبیر کی کہ اُس دن ملک غلام محمد صاحب گورنر جنرل سفر پر روانہ ہو