خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 38

$1954 38 خطبات محمود جنہوں نے اپنے سابقہ وعدوں میں کافی اضافہ کیا ہے۔مثلاً کچھ دن ہوئے میرے سامنے ایک فہرست وعده کنندگان کی پیش ہوئی تھی۔اُس میں سے ایک شخص کا چندہ پچھلے سال چھ سو روپیہ تھا اور اس سال اُس نے ایک ہزار کا وعدہ کیا ہے۔پس کارکنوں کو چاہیے کہ وہ دونوں کو دیکھیں۔کمزور پر چڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ استقلال اور قوی جدو جہد کے ساتھ کمزور کو طاقت دی جائے۔یہ ایک موڑ ہے جو انیس سال کے گزرنے کے بعد سامنے آ گیا ہے۔جب یہ موڑ گزر جائے گا تو آگے کوئی موڑ نہیں آئے گا۔اب موت ہی ہے جو چندہ دینے سے کسی کو روکے۔اور موت سے آگے تو ہم کسی سے چندہ لے بھی نہیں سکتے۔یعنی اس کے آگے اور کوئی موڑ نہیں سوائے اس کے کہ کوئی شخص زندگی کے موڑ سے ہی مُڑ جائے اور ایسے شخص کا واسطہ خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔پس اس سال ہمیں خاص جدوجہد کی ضرورت ہے۔اس کے لیے میں نے فروری کا پہلا ہفتہ مقرر کیا ہے۔یکم فروری سے سات فروری تک ہفتہ تحریک جدید منایا جائے۔ان دنوں جماعت میں جلسے کیے جائیں اور ہر شخص کے پاس جماعت کے سیکرٹری اور صدر صاحبان پہنچیں اور دیکھیں کہ کوئی شخص اس تحریک میں حصہ لینے سے محروم نہ رہے۔یا کون شخص ایسا ہے جس نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ماہوار آمدن کا چوتھا، نصف، تین چوتھائی یا اللہ تعالیٰ اُسے توفیق دے تو ایک مہینہ کی ساری آمد تحریک جدید میں دے۔یعنی جس شخص کی ماہوار آمد ایک سو روپیہ ہے وہ کم سے کم پچیس روپے اس تحریک میں دے یا خدا تعالیٰ اُسے توفیق دے تو پچاس، پچھتر یا سو روپیہ اس تحریک میں دے۔پس اس ہفتہ میں لوگوں میں اس کی تحریک کی جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے تحریک جدید میں حصہ لینے کے لیے کم از کم پانچ روپیہ کی شرط لگائی ہے۔اگر کوئی شخص ایک ہزار روپیہ ماہوار والا بھی پانچ روپیہ دے کر اس تحریک میں شامل ہوتا ہے تو ہمیں اُس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ہاں! اُسے سمجھانا چاہیے کہ تم اپنی قربانی کا مقابلہ دوسروں کی قربانیوں سے کر کے دیکھ لو۔گجا وہ لوگ تھے جنہوں نے پانچ پانچ ، چھ چھ ماہ کی آمد میں تحریک جدید میں دے دیں اور گجا تم ہو کہ تم اپنی ماہوار آمد سے جو ایک ہزار روپیہ ہے صرف پانچ روپیہ اس تحریک میں دیتے ہو۔وہ تو پانچ پانچ ماہ کی آمد میں تحریک جدید میں دے