خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 33

$1954 33 خطبات محمود خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ جب یہ لوگ انیس سال تک پہنچ جائیں گے تو وہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ ان کا اس سے نکلنا مشکل ہو گا۔اس وقت سارے اہم ممالک میں ہمارے مشن ہیں اور ان میں ہماری تبلیغ ہو رہی ہے۔اب اگر تحریک جدید کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہمیں کسی مشن کو بند کرنا پڑا تو تمہاری ناک کٹ جائے گی۔اب ناک کٹوانے سے محفوظ رہنے کے لیے تمہیں ساتھ ساتھ چلنا پڑے گا۔تم اپنے آپ کو تبلیغ میں اس طرح پھنسا بیٹھے ہو کہ اب سوائے بے شرمی اور بے حیائی کے کوئی چیز نہیں جو تمہیں اس کام سے ہٹا سکے۔تبلیغ اسلام کے متعلق جو ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے تم اُس فرض کو جانے دو تم اپنے ناک کی حفاظت کرو۔اگر تم تحریک جدید سے ہٹ گئے تو تمہاری ناک کٹ جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ یہ طریق صرف اس لیے اختیار کیا تھا کہ تم کمزوری کا شکار نہ ہو جاؤ اور تمہیں مضبوط ہونے اور بہادری دکھانے کا موقع مل جائے۔تم دس اور انہیں کے پھیر میں نہ پڑو یہ کام قیامت تک کے لیے ہے یا یوں سمجھ لو کہ یہ کام اُس وقت تک کے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو۔جب تم مر جاؤ گے تو یہ کام تمہارے لیے بند ہو گا اور جب یہ کام بند ہو گا تو تم مر جاؤ گے۔اگر تبلیغ اسلام ختم ہو گی تو تمہاری روحانی زندگی ختم ہو جائے گی اور اگر تم روحانی طور پر زندہ رہو گے تو تبلیغ اسلام بھی ختم نہیں ہو گی۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ تم نے بھی خدا تعالیٰ سے کچھ امیدیں لگا رکھی ہیں تم تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ يَا رَسُولَ اللہ آپ تو اپنے اعمال کے زور سے جنت میں چلے جائیں گے۔آپ نے فرمایا نہیں عائشہ ! میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا۔6 اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود بھی یہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا تو تم کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ہو کہ تم اپنے اعمال کے زور سے جنت میں چلے جاؤ گے؟ آخر وہ کیا چیز ہے جو تم خدا کے سامنے پیش کرو گے؟ اگر تم نماز پڑھتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لیے پڑھتے ہو۔اگر تم روزے رکھتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لیے رکھتے ہو۔اگر تم حج کرتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لیے کرتے ہو۔اگر تم زکوۃ دیتے ؟