خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 415

$1954 415 خطبات محمود اور بعض زیادہ۔اس لیے اگر ہم فرض کر لیں کہ ہر ایک خاندان دس روپیہ چندہ دے تو چھ لاکھ کی سے زائد روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہر شخص تحریک جدید میں حصہ لے۔اور ہم امید رکھتے ہیں کہ جو آج پانچ روپیہ دیں گے وہ پانچ روپیہ پر ہی نہیں ٹھہرے رہیں گے بلکہ ان میں سے بعض ایک وقت میں چالیس پچاس روپیہ تک پہنچ جائیں گے۔پس میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ جماعت وعدوں کو عام کرے اور پھر یہ بھی تحریک کر۔کہ ہر سال وعدوں میں زیادتی کی جائے کمی نہ کی جائے۔اس وقت ایک بہت بڑا طوفان آیا ہوا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانیت پر پردے ڈال دیئے گئے ہیں۔اگر تمہارے سامنے وہ کتابیں رکھی جائیں یا تمہیں پڑھ کر سنائی جائیں جو یورپ اور امریکہ میں اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک سنگدل سے سنگدل مسلمان کی بھی چیخیں نکل جائیں۔تم جس کی تعریف میں قصائد پڑھتے ہو، جس پر تم دن میں کئی بار درود بھیجتے ہو اُس کو نہایت حقیر رنگ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا وہ جاتا ہے۔اُسے اس قسم کی گالیاں دی جاتی ہیں کہ دنیا کے کسی ذلیل سے ذلیل انسان کو بھی گالیاں نہیں دی جا سکتیں۔تم ایک معمولی آدمی کو گالیاں دیتے دیکھ کر غصہ میں آ جاتے ہو لیکن تم یہ خیال نہیں کرتے کہ اس شخص کے متعلق جسے تم اپنا ہادی، راہنما، آقا اور خدا کا فرستادہ سمجھتے ہولوگوں کو اتنی غلط فہمیاں ہیں کہ حد ہی نہیں۔آخر سب لوگ پاگل تو نہیں ہو گئے کہ وہ خوانخواہ کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں۔ان میں سے بھی اکثر میں حیا اور شرافت پائی جاتی ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصل حالات اور سوانح سے ناواقف ہیں۔سینکڑوں سال مسلمان غافل رہے اور دشمن آپ کی شکل کو لوگوں کے سامنے نہایت بھیانک صورت میں پیش کرتا رہا اور اب ان کے دلوں میں یہ بات جاگزیں ہو گئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کے شدید دشمن ہیں۔میں جب انگلستان گیا تو مجھے ایک ڈاکٹر کے متعلق بتایا گیا کہ وہ دہریہ ہے اور مجھ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔میں نے اُسے ملاقات کا موقع دے دیا۔اس نے دو چار باتیں کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہایت گندے الفاظ میں کیا۔چونکہ میں نے