خطبات محمود (جلد 35) — Page 31
$1954 31 خطبات محمود۔بھی کہہ دیا کہ ہاں ! مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے لیکن باہر نہیں۔ہجرت کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ اسلام کو بچانے کی خاطر مسلمانوں کو مدینہ سے باہر جا کر بھی لڑنا پڑا۔چنانچہ جنگ بدر ہی مدینہ سے باہر کئی منزلوں پر جا کر لڑی گئی۔جب آپ جنگ کے لیے باہر نکلے تو پہلے یہ خیال تھا کہ ایک قافلہ سے مقابلہ ہو گا۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ لڑائی مکہ سے آنے والے ایک با قاعدہ لشکر سے ہو گی۔اس پر آپ نے خیال فرمایا کہ مدینہ والوں سے تو یہ معاہدہ تھا کہ انہیں مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہو گی۔جب آپ گڑائی کے لیے باہر نکلے تو آپ کے ساتھ مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی۔آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا تم مجھے مشورہ دو کہ دشمن سے لڑائی کی جائے یا نہیں؟ آپ کا منشا تھا کہ آپ کے سوال کے جواب میں انصار بولیں گے کہ معاہدہ کے وقت ہم سے یہ شرط کی گئی تھی کہ مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں ہم مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کریں گے مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔اب آپ بغیر بتائے ہمیں یہاں لے آئے ہیں یہ بات اس معاہدہ کے خلاف ہے۔بہر حال آپ نے جب مشورہ پر زور دیا تو مہاجرین نے مشورہ دیا کہ اگر دشمن حملہ کرتا ہے تو ہمارے لیے اس کا مقابلہ کرنے کے سوا اور کیا چارہ ہے؟ انصار خاموش بیٹھے رہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین کے بار بار کی ار کھڑا ہونے اور مشورہ دینے کے بعد فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب کیا کیا جائے؟ اُس وقت ایک انصاری رئیس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! لوگ آپ کو مشورہ تو دے رہے ہیں لیکن پھر بھی آپ یہی فرما رہے ہیں اے لوگو! مجھے مشورہ دو، اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ کی غرض یہ ہے کہ ہم بھی بولیں۔يَا رَسُولَ الله! ہم اب تک اس لیے نہیں بولے کہ حملہ آور، مہاجرین کے بھائی بند ہیں۔اُن میں کوئی تو مہاجرین کا بھائی ہے، کوئی چچا ہے اور کوئی بھتیجا ہے۔ہمارا اُن سے لڑائی کا مشورہ دینا اخلاق کے خلاف تھا۔کیونکہ اگر ہم یہ مشورہ دیتے کہ ہم حملہ آوروں سے لڑیں گے تو مہاجرین کہتے یہ لوگ ہمارے بھائی بندوں کے قتل کے شوقین ہیں۔اس لیے ہم نے مناسب