خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 362

$1954 362 خطبات محمود تحریک آزادی کی وجہ سے باہر نکال دیا تو اُسے بحال کرانے کے لیے جو وفد حکومت سے ملنے کے لیے گیا اُس میں بھی ایک احمدی کو شامل کیا گیا۔غرض یہ سب واقعات بتا رہے ہیں کہ مخالفین کی طرف سے جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم انگریزوں کے ایجنٹ ہیں بالکل غلط ہے۔جہاں بھی ہمارے مبلغ گئے ہیں وہاں انہوں نے مقامی لوگوں کی خدمات کی ہیں اور وہ ان سے متاثر ہیں۔مغربی افریقہ کے تین ممالک میں جن میں ہمارے مشن قائم ہیں۔ان کی ترقی اور بہبودی کے لیے احمدیوں نے بڑی کوشش کی ہے۔پچھلے دنوں گولڈ کوسٹ کے وزیر اعظم نے جو احمد یہ مسجد کے افتتاح کے سلسلہ میں گیا اور پھر اس نے ہمارے کالج کا معائنہ بھی کیا اور کہا مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ احمدی ہمارے ملک کی ترقی اور بہبودی کے لیے اس قدر کوشاں ہیں۔مجھے پہلے شبہ تھا کہ شاید ان کے کام کے متعلق مبالغہ کیا جاتا ہے۔لیکن اپنی آنکھوں سے ان کا کام دیکھ کر مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے ہمارے ملک کی ترقی کے لیے شاندار کام کیا ہے۔ان ممالک میں زبان اور تمدن اور ہونے کی وجہ سے مبلغین کو بہت سی مشکلات پیش آرہی ہیں۔مسلمان بہت کمزور ہیں۔پھر عیسائیوں کو حکومت مدد دے رہی ہے۔اس قسم کے حالات میں مسلمانوں کو آگے لے جانا بڑا مشکل ہے۔مشرقی افریقہ میں بھی نئے مشن قائم ہوئے ہیں۔مجھے یقین نہیں کہ تحریک جدید کے شروع ہونے کے بعد وہاں مبلغ بھیجا گیا تھا یہ اس کے شروع ہونے سے پہلے وہاں مشن قائم کیا جا چکا تھا۔بہر حال اگر تھا بھی تو پہلے صرف ایک مبلغ وہاں کام کر رہا تھا اور اب نو دس مبلغ کام کر رہے ہیں اور مقامی لوگوں میں ؟ احمدیت پھیل رہی ہے۔مدارس کھولنے کی بھی تحریک ہو رہی ہے۔جماعت کے کام کو دوسرے لوگ اچھی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔مشرقی افریقہ کے پاس ایک جزیرہ زنجبار ہے جس میں خوارج کی حکومت ہے لیکن زیادہ تر عرب آباد ہیں۔کچھ متعصب مولوی بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔وہاں ریڈیو پر تقاریر کا ایک سلسلہ شرو کیا گیا جن میں احمدیت کی مخالفت کی جاتی تھی۔اس پر ہمارے دوست، حکومت کے ذمہ دار لوگوں کے پاس گئے۔انہوں نے اُن کے سامنے قرآن کریم کا سواحیلی ترجمہ پیش کیا اور بتایا کہ ہم نے یہ کام کیا ہے۔یہ مولوی جو ہمارے خلاف شور مچا رہے ہیں