خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 347

$1954 347 خطبات محمود تکذیب ہی نہیں کی بلکہ بعض اوقات اس پر جنون کی حالت طاری ہو جاتی تھی اور وہ کہتا تھا کہ میرے رشتہ داروں نے میرا ایمان خراب کر دیا ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ حقیقتاً جماعت سچائی کا قائل ہے۔یہ تمام باتیں میرے دل میں آئیں اور میں نے جماعت کو لکھ دیا کہ اگر تم چاہو تو اس کا جنازہ پڑھ لو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خط میں اس شخص کے متعلق زیادہ ذکر نہیں تھا۔ہاں اُس کے متعلق جو میری معلومات تھیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے جماعت سے کہہ دیا کہ اگر چاہیں تو وہ اس کا جنازہ پڑھ سکتے ہیں۔بعد میں جو تحقیقات ہوئی ہے اُس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہ وہی شخص تھا جو میں نے سمجھا تھا۔ساتھ ہی بعض اور دوستوں کے خطوط بھی آئے ہیں جو تر ڈ د ظاہر کرتے ہیں۔اس لیے میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ میری طرف سے فتوای نہیں ہے بلکہ وقتی طور پر مقامی جماعت کی طرف سے درخواست کرنے اور بعض معلومات کی بناء پر میں نے اُن کو اس شخص کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔یوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط ملا ہے جس کے متعلق اعلان ہو چکا ہے کہ میرے 1917ء والے اعلان کی موجودگی میں اس مسئلہ پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔چنانچہ سلسلہ کے علماء کی ایک مجلس بلائی جائے گی اور وہ اس مسئلہ پر غور کرے گی۔اور اگر یہ معلوم ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے نزدیک نماز جنازہ عبادت نہیں بلکہ محض دعا ہے۔جیسا کہ پچھلے اکابر میں سے بعض کا خیال ہے اور کتب فقہ میں مندرج ہے تو اس فتوی کو جیسا کہ 1917ء میں اعلان کیا جا چکائی ہے تبدیل کر دیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ آج کا سوال نہیں بلکہ 1917 ء کا سوال ہے۔اتفاق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتوای میرے سامنے پیش نہ ہوا۔1953ء میں جب یہ سوال پیدا ہوا تو ایک احمدی نوجوان نے جس کے پاس یہ فتوای موجود تھا مجھ سے کہا کہ جنازہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتوی میرے پاس نکل آیا ہے۔فتوای میرے باپ نے پوچھا تھا۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہ فتوای حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا لیکن اس کے معنوں کے بارہ میں میں یہ اعلان کر چکا ہوں کہ سلسلہ کے علماء بلائے جائیں گے اور ان کی بحث کے بعد اس خط کے اصلی مفہوم کے بارہ میں۔