خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 344

$1954 344 خطبات محمود کوئی نقصان پہنچتا ہے اور میں جھوٹ بول کر اسے بچانا چاہتا ہوں تو یہ میری اپنی کمزوری علامت ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا دین اس سے بالا ہے کہ اس کے لیے جھوٹ اور فریب اور دھڑے بازی سے کام لیا جائے۔ہر شخص جو کسی چیز کو بچانا چاہتا ہے وہ اس کی خاطر ایسے ذرائع تجویز کرتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوں۔جو شخص غلیظ ہوتا ہے اُس کا گھر بھی غلیظ ہوتا ہے، جو شخص ادیب ہوتا ہے اُس کے منہ سے بھی اعلیٰ کلمات جاری ہوتے ہیں اور جو شخص جاہل ہوتا ہے اُس کے منہ سے جہالت کے کلمات نکلتے ہیں۔پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک تعلیم دے اور پھر انسان کو مجبور کرے کہ وہ دین کی تائید کے لیے اس تعلیم کے خلاف چلے تا کہ اس کا مقصد پورا ہو۔یقیناً اُس نے اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے جو ذرائع مقرر کیے ہیں وہی صحیح ہیں۔اور ہر انسان کا فرض ہے کہ ان ذرائع کو کسی حالت میں بھی ترک نہ کرے۔پس مخالفت کا علاج یہی ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے چلتا چلا جائے۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اور جن چیزوں کا جواب دینا ضروری ہو اُن کا جواب شریفانہ طور پر دینا چاہیے تا ہر غیر جانبدار شخص کہہ سکے کہ جواب دینے والے نے شریفانہ رستہ اختیار کیا ہے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری فتح جلد آ جائے گی۔تم جس مقصد کے لیے کھڑے ہوئے ہو وہ خدا تعالیٰ کا مقصد ہے۔اگر تم اس کے لیے صحیح طور پر کوشش کرو تو بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا تعالیٰ تمہارے کام میں روک ڈالے گا۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ایک معمار کو بلاؤں اور اُسے کہوں یہ عمارت جلد بنا دو اور پھر خود ہی اینٹ اور دوسری چیزیں باہر پھینکنا شروع کر دوں۔اگر میں ایسا کروں گا تو اپنا ہی نقصان کروں گا ، اسی طرح جب خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے کام کے لیے کھڑا کیا ہے تو اگر ہم شرافت اور اخلاص سے کام کریں گے تو وہ ہمارے کام میں روک نہیں ڈالے گا۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ تم اپنے نفوس کو درست کرو اور اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگا دو تبھی تم اُس سے اجر کے امیدوار ہو سکتے ہو۔اگر ایک معمار عمارت بنانے کی بجائے سارا دن کبڈی کھیلتا رہے اور شام کو مالک سے اُجرت کا مطالبہ کرے تو مالک اُسے کچھ بھی نہیں دے گا۔ہاں! اگر وہ شام تک عمارت بناتا رہے تو وہ اُجرت کا مستحق ہوگا۔