خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 320

$1954 320 خطبات محمود کی حالت خراب نہ ہوتی تو ہٹلر کسی صورت میں بھی ترقی نہیں کر سکتا تھا۔اس نے لوگوں کو بتایا کہ حکومت اور امراء تمہارا خون چوس رہے ہیں، وہ تمہارے ہمدرد نہیں ہیں۔اس طرح وہ اس کے ہاتھ پر جمع ہو گئے۔اس لیے اس نے اپنی پارٹی کا نام نیشنل سوشلسٹ رکھا۔پھر اٹلی میں مسولینی آیا۔وہ بھی پہلے سوشلسٹ تھا۔اس نے اپنے نظام میں یہ چیز رکھی کہ ملک میں جو مزدوروں اور پیشہ وروں کی انجمنیں تھیں اُن سے حکومت کا انتخاب کرایا۔غرض جب بھی کسی ملک میں عام بغاوت ہوئی ہے وہ بھوکوں سے ہوتی ہے۔میں نے اس شخص سے کہا تمہارے لیے خدا تعالیٰ نے یہ رستہ کھلا رکھا ہے۔جب تمہارے بچے بھوکے ہوں گے تو وہ دولت ہے قابض لوگوں کے خلاف بغاوت کر دیں گے۔تم انہیں بھوکے مرنے دو کیونکہ اسی میں تمہاری نجات ہے۔تم اپنی نسل بڑھاتے جاؤ۔جب تمہاری اولاد بھوکوں مرے گی تو خود اُٹھے گی اور حکومت پر قبضہ کرے گی لیکن میری ان باتوں کا اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔وہ شاید یہ سمجھا کہ میں تو انہیں عقلمند سمجھ کر آیا تھا لیکن انہوں نے تو ملاؤں والی باتیں شروع کر دی ہیں اور قرآن او حدیث کو پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔آج تو یہ زمانہ تھا کہ گاندھی جی کی تعلیم اور فلسفہ کو پیش کیا جاتا، یورپین تہذیب اور تعلیم کو پیش کیا جاتا۔مگر یہ تو کہیں کے کہیں چلے گئے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز انہی دو چیزوں میں مضمر ہے کہ تبلیغ کی جائے اور کثرت ازدواج سے اولاد کو بڑھایا جائے۔تبلیغ سے ایک یہ فائدہ بھی ہوگا کہ مسلمان اپنی اصلاح کریں گے کیونکہ جب وہ دوسرے لوگوں کے پاس جائیں گے اور انہیں اسلام کی دعوت دیں گے تو وہ ان کی حالت کو دیکھ کر یہ کہیں گے کہ تم خود نماز نہیں پڑھتے ، تم خود حج نہیں کرتے ، تم خود زکوۃ نہیں دیتے، تم خود غرباء اور مساکین کا خیال نہیں رکھتے پھر تم ہمیں یہ تعلیم کس طرح دیتے ہو؟ اس پر تبلیغ کرنے والا شرمندہ ہو گا اور اپنی اصلاح کرے گا۔پھر تبلیغ کے نتیجہ میں یہ بات لازمی ہے کہ دوسرے لوگ اسلام میں داخل ہوں گے اور اس طرح مسلمانوں کی تعداد بڑھے گی اور کثرت ازدواج سے تعداد اور بھی بڑھے گی۔پھر یہ بھی ایک قانون ہے کہ جب کوئی قوم بڑھنا شروع کرتی ہے تو دوسری قوم کی تعداد خود بخود کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔امریکہ میں یورپین گئے تو ان لوگوں کی آبادی روز بروز