خطبات محمود (جلد 35) — Page 292
$1954 292 خطبات محمود ہ پرائیویٹ ٹیوشن بھی کر لیتا ہے یا ڈاکٹر ہے اگر وہ ملازم ہو تو پرائیویٹ پریکٹس بھی کر لیتا ہے لیکن جب سرکاری کام سامنے ہو تو وہ دوسرے کام کو نظر انداز کر دے گا اور پرائیویٹ کی پریکٹس یا پرائیویٹ ٹیوشن چھوڑ کر اپنے مفوضہ کام کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔پس قرآن کریم کہتا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس کا اصل کام قومی کام ہو۔وہ بیشک زراعت کرے، تجارت کرے یا اور کوئی پیشہ کرے لیکن اُس کے اصل کام میں کوئی روک واقعی نہ ہو۔ہم نے بھی بعض واقفین کو اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ زائد کام کر لیں۔بلکہ بعض دفعہ میں نے دفتر والوں کو ڈانٹا ہے کہ تم واقفین کو زائد کام کرنے سے کیوں روکتے ہو؟ ہاں ہم نے شرط رکھی ہے کہ وہ ہمیں بتا دے کہ میں فلاں کام کرنے لگا ہوں۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ واقفین کو زائد کام کرنے کی تحریک کرنی چاہیے۔لیکن بغیر وقف کے دین کا کام کرنا مشکل ہے۔جس جماعت میں وقف کا سلسلہ نہ ہو وہ اپنا کام کبھی مستقل طور پر جاری نہیں رکھ سکتی۔ہم نے تو وقف کی ایک شکل بنا دی ہے ورنہ زندگی وقف کرنے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ صحابہ نے وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ پر عمل نہیں کیا؟ حضرت ابو ہریرہ کو دیکھ لو انہوں نے آخری زمانہ میں اسلام قبول کیا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے صرف اڑھائی سال پہلے مسلمان ہوئے۔مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابو ہریرہ نے غور کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب آخری عمر میں ہیں اور میں بہت دیر بعد اسلام میں داخل ہوا ہوں۔اس لیے اگر میں کچھ سیکھنا چاہتا ہوں تو اس کا طریق یہی ہے کہ میں اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کر دوں۔چنانچہ وہ مسجد میں ہی رات دن بیٹھے رہتے۔شروع شروع میں اُن کا بھائی گھر سے کھانا بھیجوا دیتا تھا لیکن جب اُس نے دیکھا کہ یہ تو مستقل طور پر مسجد میں بیٹھ گئے ہیں تو اُس نے کھانا بھیجوانا بند کر دیا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! میرا بھائی تو مستقل طور پر مسجد میں بیٹھ گیا ہے۔میں عیالدار شخص ہوں۔میں نے بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔میں اسے کب تک خرچ دے سکوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ