خطبات محمود (جلد 35) — Page 291
$1954 291 خطبات محمود آہستہ آہستہ مٹتا جا رہا ہے۔وہ یہ جھتی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ خود کرے گا حالانکہ یہ نقطہ نگاہ بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر وہ بیوقوفی کی حد تک اسے لمبا کر دیتے ہیں اور اس کا ایک غلط مفہوم لے لیتے ہیں۔قرآن کریم میں لکھا۔کہ رزق خدا تعالیٰ دیتا ہے 2ے لیکن تم میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں کہتا کہ رزق تو خدا تعالیٰ نے ہے دینا ہے اس لیے میں نوکری کیوں کروں؟ قرآن کریم میں یہ لکھا ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ ہے 3 لیکن دنیا میں لوگ نکاح کرتے ہیں۔اگر اولاد نہ ہو تو بیویوں کا علاج کرواتے ہیں۔اور کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ اولاد تو خدا تعالیٰ نے دینی ہے مجھے نکاح کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ ہر شخص نکاح کرتا ہے اور اولاد کے لیے علاج معالجہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا۔پھر خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو وہی شفا دیتا ہے۔4 لیکن تم یہ نہیں کہتے کہ جب شفا خدا تعالیٰ نے دینی ہے تو ہم اپنے بیمار بچہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس کیوں جائیں؟ بلکہ تم ان ساری جگہوں پر یہ سمجھتے ہو کہ باوجود اس کے کہ سارے کام خدا تعالیٰ نے کرنے ہیں۔پھر بھی انسان کو اس کے متعلق حسب استطاعت کوشش کرنی چاہیے۔مگر جب وقف کا سوال آتا ہے تو تم اس کے لیے کوئی حرکت نہیں کرتے اور یہ کہہ دیتے ہو کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اگر یہ بات تمہارے دوسرے اعمال سے ملا کر دیکھی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمہارے نفس کا دھوکا ہے یا تم دوسروں کو دھوکا دینا چاہتے ہو اور یا پھر تمہاری عقل اتنی کمزور ہے کہ تم اُس بات کا انکار کرتے ہو کہ جو تمہاری زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دینی جماعتوں اور دینی کاموں کو چلانے کے لیے وقف کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے بغیر دینی جماعتیں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم : فرماتا ہے وَلتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ - 5- کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ جس کا کام صرف قومی کام کرنا ہو اور یا پھر دوسرے کام وہ صرف ضمنی طور پر کرے اصل کام قومی کام ہو۔آخر ہر آدمی ایک وقت میں تین چار کام کر لیتا ہے۔مثلاً سکول ماسٹر ہے۔