خطبات محمود (جلد 35) — Page 13
$1954 13 خطبات محمود ہے۔کہ ہم تمہیں اس مسجد میں ہر گز گھنے نہیں دیں گے۔اُس نے کہا یہ مسجد تو میں نے خود بنائی اس لیے تم مجھے اس مسجد سے نہیں روک سکتے۔انہوں نے کہا خواہ کچھ ہو ہم تمہیں اس مسجد میں نہیں گھنے دیں گے۔اس نے حکام کے پاس شکایت کی۔انہیں پورے حالات معلوم نہیں تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ اس نے وہ مسجد بنائی ہے۔انہوں نے بھی اس خیال سے کہ اس طرح فساد بڑھے گا اُسے مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا۔اُس نے کہا اچھا! جب یہ مسجد انسانوں کی کی ہوگئی ہے تو اب میں اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے نہیں جاؤں گا۔کچھ دنوں کے بعد حکام کو معلوم ہوا کہ مسجد اُس نے بنائی ہے اور لوگوں نے اُس پر سختی کی ہے اس پر بعض ایسے افسر جو اپنے دل میں خوف خدا رکھتے تھے انہوں نے سمجھا کہ ہم سے بڑی غلطی ہوئی انہوں نے اس احمدی کو کہلا بھیجا کہ تم بے شک مسجد میں آیا کرو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اُس نے کہا اب میں نہیں آتا۔جب یہ خدا کی مسجد نہیں بلکہ انسانوں کی مسجد ہے تو میں نے اس میں آکر کیا لینا ہے؟ سنانے والے نے سنایا کہ آخر علاقہ کے افسر بھی اور رئیس بھی اُس کے گھر پر گئے اور اُس کی منتیں کیں کہ ہمیں خدا کے لیے معاف کرو اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے آیا کرو۔چنانچہ اُس نے انہیں معاف کیا اور وہ مسجد میں آنے جانے لگا۔اب دیکھو! اس کی وجہ یہی تھی کہ ان میں سے بعض کے دل میں خوف خدا تھا۔جب انہیں معلوم ہوا کہ اس مسجد کے ذریعہ اس شخص نے خدا کا نام لینے کی دوسروں کے لیے سہولت پیدا کی تھی اور اس امر کا انتظام کیا تھا کہ لوگ آئیں اور خدا کی زیارت کریں لیکن ہم نے اس کو خدا تعالیٰ کی زیارت سے محروم کر دیا تب انہوں نے اپنی غلطی محسوس کی اور وہ اصرار کر کے اُسے مسجد میں لے آئے۔تو ان مقامات کو دیکھ کر انسان کے دل پر اثر پڑتا ہے اور انسان محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک شرف عطا فرما دیا ہے اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کو دیکھ کر بعض دفعہ سنگدل سنگدل انسان بھی کانپ اُٹھتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں اپنے آخری ایام مکہ میں ہجرت سے تین چار سال پہلے خیال پیدا ہوا کہ مکہ والے تو نہیں مانتے شاید کوئی دوسرا شہر مان جائے۔حجاز کا دوسرا بڑا شہر طائف تھا۔آپ اپنے ایک ساتھی کو لے کر طائف پہنچے لیکن آپ کی یہ محسن علی ނ