خطبات محمود (جلد 35) — Page 205
$1954 205 خطبات محمود آجائے گی اس لیے وہ شرعی نبیوں کو اُن کے زمانہ میں ہی حکومت دے دیتا ہے تا کہ وہ ان احکام پر عمل کر کے لوگوں کے لیے ایک نمونہ قائم کر سکیں۔غیر شرعی نبیوں کے لیے نہ نماز کی مشکل ہے، نہ روزہ کی مشکل ہے، نہ حج کی مشکل ہے، نہ زکوۃ کی مشکل ہے۔ان کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ تم نماز چھوڑ بیٹھے ہو نماز پڑھو، روزہ چھوڑ بیٹھے ہو روزہ رکھو، حج چھوڑ بیٹھے ہو حج کرو، زکوۃ چھوڑ بیٹھے ہو زکوۃ دو۔یہ نہیں کہ لوگ اُن سے پوچھیں نماز کیا ہے اور روزہ کیا ہے اور حج کیا ہے اور زکوۃ کیا ہے۔وہ صرف عمل کی تلقین کرتے ہیں یہ ان کی صحیح حکمتیں بتاتے ہیں۔مگر حج کو بغیر حکومت کے قائم نہیں کیا جا سکتا۔زکوۃ کو بغیر حکومت کے قائم نہیں کیا جا سکتا۔مقدمات کی قضاء بغیر حکومت کے قیام کے نہیں ہو سکتی۔اس لیے شریعت والے نبیوں کو اُن کے زمانہ میں ہی حکومت دی جاتی ہے لیکن غیر شرعی نبیوں کو حکومت کا دیا جانا ضروری نہیں۔اسی لیے حضرت مرزا صاحب کا نام مسیح رکھا گیا اور مسیح کی جماعت کو تین سو سال بعد حکومت ملی تھی۔اسی طرح موسی علیہ السلام کو وہ بے شک ملک تو نہیں ملا جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا مگر مصر سے نکلنے کے بعد اُن کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔پس جن نبیوں کے پاس شریعت ہوتی ہے اُن کے احکام اور ہوتے ہیں اور دوسروں کے احکام اور ہوتے ہیں۔یہ صرف دل کی چاٹ ہوتی ہے کہ ہمیں بھی حکومت مل جائے اور ہم بھی لیڈر بن جائیں۔خدا کی سے ایسے لوگوں کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔دین سے ایسے لوگوں کو کوئی محبت نہیں ہوتی۔صرف اتنی خواہش ہوتی ہے کہ کہیں ہم بھی وزیر ہو جائیں۔گویا لالچ اور حرص ان سوالات کے پس پردہ کام کر رہی ہوتی ہے۔حالانکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ دین کے ساتھ حکومت کا کیا تعلق ہے۔خدا سے تعلق ہو جائے تو حکومتیں اس کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود و علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کیا کوئی حکومت تھی ؟ مگر خدا کہتا ہے کہ ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے 5 اب ایک شخص بادشاہ ہے اور ایک شخص ایسا ہے کہ بادشاہ اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔تو دونوں میں سے بڑا کون ہوا؟ پس بغیر بادشاہت کے بھی بڑائی ہو سکتی