خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 170

$1954 170 خطبات محمود لکھا تھا کہ میں نے اُس کے بیٹے کے متعلق فلاں احمدی کو اپنا ایک خواب سنایا تھا اور بتایا تھا کہ وہ بادشاہ ہو جائے گا مگر اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ لڑکا مر گیا ہے۔آپ اس لڑکے کی موت کی خبر اس احمدی کو نہ سنائیں ورنہ اس کا ایمان کمزور ہو جائے گا۔گویا اپنے شاگردوں کو دھوکا بھی سکھایا جاتا ہے کہ ان کے ایمان میں کوئی لغزش پیدا نہ ہو۔آخر ہم نے ان ساروں کو بدل دیا۔لیکن کچھ عرصہ ہوا ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ یہ لوگ اب بھی آپس میں ملتے ہیں اور جو مخبر تھا اُس کا نام بھی اُس نے لکھا کہ یہ بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دماغ خراب ہو چکے ہیں اور یا پھر وہ منافق اور بے ایمان ہیں کہ ایک طرف تو وہ ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ مخفی طور پر ان لوگوں کے پاس آتے جاتے ہیں جو جماعت میں فتنہ پیدا کرنے والے ہیں۔حالانکہ مومن خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں اپنے تعلقات کی کبھی پروا نہیں کرتا اور وہ فوراً فتنہ انگیزی کرنے والے کے خلاف شور مچا دیتا ہے۔جب بدر کی جنگ ہوئی اُس وقت تک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہدایت دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ایک دن گھر میں بیٹھے باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابو بکر کا لڑکا کہنے لگا ابا جان ! بدر کی جنگ میں میں ایک پتھر کے پیچھے چُھپ کر بیٹھا ہوا تھا کہ آپ میرے پاس سے گزرے۔اُس وقت میں نے چاہا کہ وار کروں مگر میں نے فوراً آپ کو پہچان لیا اور اپنی تلوار نیچی کر لی۔حضرت ابوبکر نے کہا خدا نے تجھے اسلام نصیب کرنا تھا اس لیے تو بیچ گیا ورنہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو میں نے کبھی اپنی تلوار نیچی نہیں کرنی تھی۔1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر اور ایمان میں امتیاز بھی یہ ہے کہ ایمان یہ نہیں دیکھتا کہ کوئی شخص میرا دوست ہے یا میرا رشتہ دار ہے بلکہ وہ فوراً اسے نگا کر کے رکھ دیتا ہے۔اور کفر ان باتوں کو چھپانے کی طرف راغب ہوتا ہے کیونکہ کفر کا خدا کوئی نہیں اور مومن کا خدا ہے۔کافر سمجھتا ہے کہ ان لوگوں کے تعلقات مقدم ہیں اور مومن سمجھتا ہے کہ اصل تعلق وہی ہے جو انسان کا خدا سے ہے باقی سب تعلقات عارضی ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں