خطبات محمود (جلد 35) — Page 156
$1954 156 خطبات محمود ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا چاند پر انحصار ہوتا ہے اور چاند دوسرے دن شام کو نیا نکلتا ہے۔اس ، لیے گو ہم منگل کے بعد کی رات کو جا رہے ہیں لیکن ہم منگل کو نہیں بلکہ بدھ کو جا رہے ہیں۔پھر میں نے کہا کہ یہ وہم کر لینا کہ فلاں دن منحوس ہے اور فلاں دن غیر منحوس ، یہ تو بڑی خرابی پیدا کرنے والا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ آپ ہی نے تو کسی تقریر میں کہا تھا کہ منگل کے دن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شاید کوئی الہام ہوا تھا یا کوئی اور وجہ تھی کہ آپ اسے ناپسند فرمایا کرتے تھے۔میں نے کہا میں نے تو صرف ایک روایت کی تشریح کی تھی۔یہ تو نہیں کہا تھا کہ منگل کا دن منحوس چونکہ حضرت مسیح موعود ہے۔علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ایک ایسی روایت منسوب کی جاتی ہے اس لیے میں نے بتایا تھا کہ اگر اس روایت کو درست تسلیم کیا جائے تو شاید منگل کے دن سے آپ کو اس لیے تخویف کرائی گئی ہو کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی۔مگر بعض لوگوں نے اس مخصوص بات کو جو محض آپ کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی وسیع کر کے اسے ایک قانون بنالیا اور منگل کی نحوست کے قائل ہو گئے حالانکہ جو چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو اُس کو منحوس قرار دینا یہ بڑی بھاری نادانی ہوتی ہے۔اگر منگل کا دن منحوس ہوتا تو خدا تعالیٰ کو بتانا چاہیے تھا کہ اور تو سب دنوں میں میری صفات کام کرتی ہیں لیکن منگل کا دن چونکہ منحوس ہے اس لیے اس میں میری صفات کام نہیں کرتیں۔اور اگر خدا تعالیٰ نے کسی دن کی نحوست محسوس نہیں کی تو ہم یہ کریں، یہ ایسی باتیں ہیں جن سے وہم بڑھتا ہے اور زندہ قوموں کے افراد کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے وہموں میں مبتلا ہونے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ان وہموں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس کسی کو کوئی خاص نقصان کسی دن میں پہنچ جاتا ہے وہ اُسی دن کو منحوس قرار دینے لگ جاتا ہے۔فرض کرو کسی کو پیر کے دن کوئی شدید نقصان پہنچا ہے تو وہ کہنا شروع کر دے گا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ پیر کا دن منحوس ہوتا ہے۔کسی کو ہفتہ کے دن کوئی حادثہ پیش آیا تو وہ کہنا شروع کر دے گا کہ ہفتہ کا ن منحوس ہوتا ہے۔مثلاً کوئی حکومت ہفتہ کے دن شکست کھا جاتی ہے تو اُس کے افراد کے ہنوں پر یہ بات غالب آ جائے گی کہ ہفتہ کا دن منحوس ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے۔