خطبات محمود (جلد 35) — Page 95
$1954 95 خطبات محمود تو انہوں نے مجھے غلیظ ترین گالیاں دیں۔اخبارات میں میرے متعلق جھوٹی اور فحش خبریں ملی اور مضامین شائع کیے۔اگر اُن کا زور چلتا تو جس کا نام محمود تھا اُس کا نام ذلیل ہو جاتا۔لیکن اس کا محمود نام خدا تعالیٰ نے رکھا تھا۔اس لیے وہ تمام فتنوں میں اسے محمود ہی بناتا جاتا تھا۔بعض دوست آئے اور ایک وقت تک انہوں نے خوب اخلاص دکھایا اور ہمیں بھی ان سے بعض امیدیں پیدا ہو گئیں لیکن بعد میں وہی لوگ دشمن ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ اسے ہم لوگوں نے ہی عزت دی ہے اور اب ہم لوگ ہی اسے ذلیل کریں گے۔میری خلافت کا غالباً دوسرا سالانہ جلسہ تھا یا پہلا ہی جلسہ تھا کہ لاہور سے ایک چھپا ہوا اشتہار مجھے پہنچا۔اس میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کا یہ اعلان تھا کہ میں نے اسے خلیفہ بنایا تھا اور اب میں ہی اسے معزول کرتا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دوستانہ تعلقات تھے لیکن جب آپ نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعوی کیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے یہی کہا کہ میں نے انہیں عزت دی تھی اور اب میں ہی انہیں ذلیل کروں گا۔اب دیکھو دونوں میں سے کس کی بات درست نکلی؟ جن دوستوں پر یہ خیال تھا کہ وہ بڑھانے والے ہیں انہوں نے بعد میں مقابلہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ذلیل کرنا چاہا؟ لیکن آپ کو مسیح اور مہدی خدا تعالیٰ نے بنایا تھا اس لیے اس نے کہا میں آپ کو ترقی دوں گا، آپ کو بڑھاؤں گا اور آپ کے دشمنوں کو ناکام و نامراد بناؤں گا۔چنانچہ ایک دن ایسا بھی آیا جب عیسائیوں کی طرف سے آپ پر مقدمہ دائر ہوا تو یہ مولوی عیسائیوں کی تائید میں آپ کے خلاف عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے کہا اس شخص سے امید ہی یہی تھی کہ وہ اس کو قتل کرا دیں گے۔بعض بیوقوفیوں کی وجہ سے مجسٹریٹ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پر ناراض ہوا۔مجسٹریٹ نے کہا تم عدالت کی ہتک کر رہے ہو اور غصہ میں آ کر کہا عدالت سے نکل جاؤ۔اُس وقت بہت سے لوگ عدالت کے باہر جمع ہو گئے تھے اور وہ عدالت کے فیصلہ کا انتظار کر رہے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے خیال کیا کہ مجسٹریٹ نے جو سلوک مجھ سے کیا ہے اس کا ان لوگوں کو پتا نہ لگے۔کسی شخص کی چادر بچھی ہوئی تھی۔مولوی محمد حسین اُس چادر پر بیٹھ گئے اور سمجھا کہ لوگ یہ خیال کریں گے