خطبات محمود (جلد 35) — Page 59
$1954 59 59 خطبات محمود وعدوں میں دس دن باقی ہیں اور وعدوں کے یہاں پہنچنے میں بھی پانچ دس دن لگ جائیں گے۔اگر ان دنوں میں بھی جماعت کے احباب اُسی طرح کوشش کرتے رہے جس طرح وہ پہلے چند دن کرتے رہے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ نہ صرف وہ فرق دور ہو جائے گا جو اس سال کے وعدوں میں اور پچھلے سال کے وعدوں میں ہے بلکہ اس سال کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں سے بڑھ جائیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ بیرونی ممالک میں اسلام کی تڑپ پیدا ہو رہی ہے اور یہ تڑپ صرف غیر مسلم ممالک میں پیدا ہو رہی ہے بلکہ مسلم ممالک میں بھی پیدا ہو رہی ہے اور ان میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بچے غیر ملکوں میں بھیجیں تا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں اور اس طرح وہ اپنے علاقوں میں اسلام کو مضبوط کر سکیں۔چنانچہ پرسوں ہی مجھے سوڈان کی تی جماعت اسلامیہ کی طرف سے چٹھی آئی ہے کہ آپ اپنی جماعت کی طرف سے ہمارے کچھ لڑکوں کو وظیفے دیں تا کہ وہ دوسرے ممالک میں جا کر اسلام کی تعلیم حاصل کر سکیں اور اس طرح نہ صرف ہر سال ہمارے ملک کی تعلیم ترقی کرے بلکہ اسلامی ممالک سے ہمارے تعلقات بھی مضبوط ہوں۔ہر ملک میں کچھ خصلتیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنے قرب و جوار کے علاقہ میں ایک فضیلت حاصل کر لیتا ہے۔مثلاً یورپ کے ملکوں میں ذاتی کریکٹر اور محنت کی عادت ایسی پائی جاتی ہے جو ابھی تک ایشیائی ممالک میں پیدا نہیں ہو سکی۔وہاں لوگ اس قدر محنت کرتے ہیں کہ اُن کے آگے ہمارے ملک کے رہنے والوں کی محنت مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب جبکہ وعدے قریباً پورے ہو گئے ہیں سال اول کے وعدوں میں چھبیس ہزار کا فرق ہے۔اگر سب دوست دس فیصدی کم کرتے تب بھی تنیس ہزار کا فرق ہونا چاہیے تھا مگر وعدے کم کرنے والے ہیں فیصدی بھی نہیں۔جس سے معلوم ہے ہے کہ دس فیصدی کے قریب لوگوں نے وعدہ کیا ہی نہیں۔ایک اعلیٰ نیکی کے کام میں حصہ لینے کے بعد یہ غفلت قابلِ افسوس ہے۔اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے۔دفتر دوم کے وعدوں میں زیادتی ہے گو امید کے مطابق نہیں مگر بہر حال زیادتی ہے الْحَمْدُ لِلہ۔خدا کرے اب ادا ئیگی میں بھی پھستی ہو امین۔