خطبات محمود (جلد 35) — Page 37
$1954 37 خطبات محمود مارتے پھرو تو لوگ کہتے یہ ٹھیک ہے لیکن اب ایسا نہیں۔اب اگر کسی کو کوئی بات کہو تو وہ کہتا ہے ہے پہلے مجھے سمجھاؤ کہ یہ کس طرح درست ہے۔لوگ اس کا نام بے دینی اور دہریت رکھتے ہ ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سچائی کی جستجو ہے جو عیسائیوں اور دوسرے مذاہب والوں میں پیدا ہو گئی ہے۔نئی پود کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا ہو جانا کہ تم ہمیں سمجھاؤ تو ہم مانیں نہایت خوش قسمتی اور مفید احساس ہے۔اب وہی مذہب غالب آ سکتا ہے جس کی بنیاد عقل پر ہو۔جس مذہب کی بنیاد عقل پر نہیں وہ مذہب ہارے گا اور جس کی بنیاد عقل پر ہے وہ جیتے گا۔لوگ اسے دہریت اور بے دینی کہتے ہیں اور میں اسے دین کی جستجو اور اس کے لیے ایک تڑپ کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ دماغوں کو اس طرف مائل کر رہا ہے کہ وہ معقول باتوں کو مانیں اور غیر معقول باتوں کو رڈ کریں۔پس دنیا اسلام کے کنارے پر کھڑی ہے اور وہ زبانِ حال سے پکار رہی ہے کہ مجھے اسلام دو، مجھے صداقت دو تا میں اسے مان لوں۔اس زریں موقع کو ہاتھ سے جانے دینا بہت بڑی غفلت اور مُجرم ہے۔اسی سلسلہ میں میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ یکم فروری سے سات فروری تک تحریک جدید کا ہفتہ منایا جائے۔ہر جگہ پر ایک بار یا دو دو، تین تین بار جلسے کیے جائیں اور جماعت کے ہر فرد کے پاس جماعت کے مخلصین پہنچیں اور اُسے اس تحریک میں شامل کریں۔میں نے مخلصین کا لفظ اس لیے کہا ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ جماعت کا کچھ حصہ کمزور ہے۔اس لیے میں کہتا ہوں کہ مخلصین کمزوروں کے پاس پہنچیں تا ان میں سے بھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے تحریک جدید میں شامل کرنے کے لیے کوئی تحریک نہیں ہوئی۔اور پھر جو شخص ایک دفعہ تحریک جدید میں حصہ لے گا اور یہ سمجھ کر حصہ لے گا کہ یہ تحریک قیامت تک چلنے والی ہے و پیچھے نہیں ہٹے گا۔اب بعض لوگ ایسے ہیں جو پیچھے ہٹ گئے ہیں یا انہوں نے اپنے سابقہ وعدوں کے مقابل پر صرف پندرھواں، سولھواں یا بیسواں حصہ چندہ لکھوایا ہے لیکن وہ بھی ہیں جنہوں نے پہلے سے بھی بڑھ کر اس میں حصہ لیا ہے۔ہمارے کارکن وعدوں میں کمی کرنے والوں چڑتے ہیں اور قربانی کرنے والوں کی طرف نہیں دیکھتے۔جماعت میں ایسے لوگ بھی پر ہیں