خطبات محمود (جلد 35) — Page 332
$1954 332 خطبات محمود جو اگر چہ ہوتی تو ایسے لوگوں سے ہے جو نیک اور دین سے محبت رکھنے والے ہوتے ہیں لیکن ان ان کے کام کو خدا تعالیٰ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔اس لیے ممکن ہے کہ گاڑی چلتے چلتے کسی جگہ اپنا راستہ بدل لے۔جو گاڑی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ تو چاہے تیز چلے یا آہستہ، بہر حال سیدھی چلتی چلی جائے گی۔لیکن جو گاڑی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی گواسے چلاتے نیک اور دین سے محبت رکھنے والے لوگ ہی ہیں لیکن چونکہ وہ پورے طور پر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی اس لیے ہر وقت یہ خطرہ ہوتا ہے کہ شیطان انہیں دھوکا نہ دے دے یا طاقت پا کر وہ اپنے ارادوں کو تبدیل نہ کر دیں۔چونکہ ان کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کا ہاتھ نہیں ہوتا اس لیے وہ ذمہ دار نہیں ہوتا کہ وہ اس کام کو اسی صورت میں ختم کرے جس صورت میں ان لوگوں کو ارادہ ہوتا ہے۔پس ایسی حالت میں دعاؤں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ گو وہ ایک نیک تحریک ہوتی ہے لیکن وہ خدا تعالیٰ کے خاص مقبول لوگوں کے ذریعہ جاری نہیں ہوتی۔اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں شیطان اس میں دخل اندازی نہ کرے۔اس لیے دوستوں کو چاہیے کہ وہ دعائیں کریں کہ اگر یہ نظام نیک ہو تو خدا تعالیٰ اسے چلاتا چلا جائے اور اس کا کانٹا اس طرح نہ بدلنے دے کہ ملک تباہ ہو جائے۔اور یہ کہ اس نظام کو چلانے والوں کے ارادہ کو جنہیں اس نے خود مقرر نہیں کیا اپنا لے اور یہ سمجھ لے کہ گویا وہ اس کا اپنا ہی کام ہے۔اگر خدا تعالیٰ اسے اپنا ہی کام سمجھ لے تو یقیناً اس نظام کا انجام اچھا ہو گا اور اس سے ملک میں امن اور اطمینان پیدا ہو گا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی دعاؤں کو جاری رکھیں۔انہیں ملک کے کچھ حالات معلوم ہیں اور کچھ حالات معلوم نہیں ہیں۔لیکن ہمیں معلوم ہیں۔کیونکہ کئی باتیں جب دوسرے لوگوں کے سامنے سے گزرتی ہیں تو گو وہ احمدی نہیں ہوتے مگر چونکہ وہ ہم پر حسن ظنی رکھتے ہیں اس لیے وہ ہم سے مشورہ کر لیتے ہیں۔اس ہمیں کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا ہے کہ پس پردہ کیا ہو رہا ہے۔دوسرے لوگ بعض اوقات احمدیوں پر شبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مرکز کو حکومت کے رازوں سے آگاہ کرتے ہیں۔جب ظفر اللہ خاں حکومت میں تھے تو ان کے متعلق ہمیشہ یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ہمیں مثلاً