خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 328

$1954 328 خطبات محمود تمہیں تین طلاق، تمہیں تین ہزار طلاق، تمہیں تین کروڑ طلاق، تمہیں تین ارب طلاق۔یہی رواج حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی عربوں میں ہو گیا۔اب ملاں کہتا ہے کہ مرد کے تین طلاق کی کہنے پر تین طلاق واقع ہو جاتی ہیں۔حالانکہ اسلام نے اس بیوقوفی کی اجازت نہیں دی بلکہ اس طریق کو ناجائز قرار دیا ہے۔اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ جس طہر میں خاوند بیوی کے پاس نہ گیا ہو اس طہر میں طلاق دی جائے۔اگر یہ امر ثابت ہو جائے کہ اس طہر میں وہ اپنی بیوی کے پاس گیا تھا تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔پھر آجکل کا ملاں کہتا ہے کہ تین دفعہ یکدم طلاق دینے کے بعد عورت سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔حالانکہ اگر ایک عورت کو دس ہزار دفعہ بھی یکدم طلاق دے دی جائے تو وہ ایک ہی طلاق شمار کی جائے گی اور اس کے بعد عدت میں اسے رجوع کا اختیار حاصل ہو گا۔اگر مرد اس عرصہ میں رجوع نہیں کرتا اور عدت گزر جاتی ہے تو عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی اور دوبارہ تعلق صرف نکاح سے ہی قائم ہو سکے گا۔لیکن اگر نکاح کے بعد مرد پھر کسی وقت عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع نہیں کرتا تو یہ دوسری طلاق ہو گی۔اس کے بعد بھی نکاح کے ذریعہ مرد وعورت میں تعلق قائم ہو سکتا ہے۔لیکن ان دو نکاحوں کے بعد اگر پھر وہ کسی وقت غصہ میں طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو اس کے بعد اسے اپنی بیوی سے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی۔جب تک وہ اور نکاح مکمل نہ کرے۔اور درحقیقت اس قسم کی دو طلاقوں کے بعد کوئی پاگل ہی ہو گا جو تیسری طلاق دے۔اور اگر وہ دیتا ہے اور پھر عرصہ عدت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو شریعت اس عورت کے ساتھ اسے نکاح کی اجازت نہیں دیتی۔لیکن آجکل کے ملا منہ سے تین طلاق کہہ دینے پر ہی اس عورت کو مرد پر حرام کر دیتے ہیں اور دوبارہ نکاح کو ناجائز قرار دے دیتے۔ہیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس قسم کے واقعات کثرت سے ہوئے تو آپ نے فرمایا اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک سے زیادہ طلاقیں دے گا تو میں سزا کے طور پر اس کی بیوی کو اُس پر ناجائز قرار دے دوں گا۔جب آپ پر یہ سوال ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا حکم نہیں دیا پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشا تھا کہ اس قسم کی طلاقیں رُک جائیں۔چونکہ تم اس قسم کی طلاق دینے