خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 327

$1954 327 خطبات محمود اور ایسے قوانین بنائے جاتے کہ کوئی شخص اپنے عمل سے اسلامی احکام کو بدنام نہ کر سکتا۔مثلاً جب ایک سے زائد شادیاں کی جاتی ہیں تو اکثر یہ ہوتا ہے کہ پہلی بیوی کو كَالمُعَلَّقَةِ چھوڑ جاتا ہے اور دوسری بیوی کے ساتھ عیش منایا جاتا ہے۔پہلی بیوی کے بچوں کی تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور دوسری بیوی کے بچوں کو ہر قسم کی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ایسی مثالیں ان لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں جو اپنے آپ کو قوم کا لیڈر سمجھتے ہیں۔اگر ضرورت ہو تو ایک مجلس قائم کی جائے۔اس مجلس میں ہم ان لیڈروں کی مثالیں بیان کر دیں گے۔پس ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسا قانون بنایا جاتا کہ اگر کوئی شخص اسلام کے احکام کے ماتحت ایک - زیادہ شادیاں کرے گا تو اسے اپنی سب بیویوں میں انصاف کرنا پڑے گا۔اسے پہلی بیوی اور اس کے بچوں کو بھی دوسری بیوی اور اس کے بچوں کے برابر خرچ دینا پڑے گا اور اگر وہ ایسا کی نہیں کرے گا تو ہم اسے سزا دیں گے۔اسی طرح اسلام میں خلع کا قانون ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ مرد جب چاہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔لیکن عورت اگر چاہے تو خلع نہیں کراسکتی۔ہم نے اس قانون کو اپنی جماعت میں جاری کیا ہے۔لیکن ہمارے اندر اتنی طاقت نہیں کہ ہم اس قانون کو سارے ملک میں جاری کر سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے نفرت کرتی ہے تو وہ اُس سے الگ ہو سکتی ہے 2 کیونکہ تعلقات زوجیت محبت پر مبنی ہوتے ہیں۔اگر محبت نہیں رہی تو وہ اپنے خاوند سے الگ ہو جائے۔اگر مرد کہتا ہے کہ اس کی بیوی کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو رشتہ داروں کا ایک بورڈ بیٹھے گا اور وہ اس امر کی کی تحقیقات کرے گا۔اگر اس کی بات درست ثابت ہوئی تو اُسے کہا جائے گا کہ تم اسے طلاق کی دے دو۔اور اگر عورت کہتی ہے کہ اس کے خاوند کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو اس طرح کا ایک بورڈ عورت کے متعلق بیٹھے گا جو معاملہ کی تحقیقات کرے گا اور اگر واقعہ درست ثابت ہوا تو عورت کو خلع کی درخواست قضا میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔پس یہاں اس قسم کے قوانین بننے چاہیے تھے کہ اسلامی احکام کا ناجائز استعمال ہو۔ہمارے ملک میں عام رواج ہے کہ معمولی سے جھگڑے پر وہ اپنی بیوی کو کہہ دیتے تھے