خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 324

$1954 324 خطبات محمود پڑھانے کے سوا اور کیا کر سکتا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے میں نے اُسی دن سے اُس سے اپنے تعلقات منقطع کر لئے۔اب جو مولوی اس حیثیت کے ہوں انہیں قابو میں لانا کونسی مشکل بات ہے۔کمیونسٹ چند لوگ خرید لیں گے، چاہے وہ اسلامی جماعت کے ہوں یا کسی اور جماعت کے۔اور انہیں ہزار ہزار، دو دو ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ دے دیں گے اور وہ ی دوسرے مولویوں کو اپنے ساتھ ملالیں گے۔اگر انہوں نے مولویوں کو بلایا اور انہوں نے دیکھا کہ بڑے بڑے لوگ کمیونسٹوں میں شامل ہیں اور ان لوگوں نے انہیں اپنے ساتھ کرسیوں پر جگہ دے دی تو وہ اسی میں خوش ہو جائیں گے۔اگر وہ لوگ اس 9 روپے آمد والے مولوی۔یہ کہیں۔گے کہ تم یہ تقریر کرو کہ اسلام سے یہ ثابت ہے ”خدا کوئی نہیں، تو وہ بڑی خوشی سے منبر پر آکر تقریر کر دے گا کہ خدا کوئی نہیں۔فلاں شخص کہتا ہے ” خدا ہے اور اُس کی یہ یہ صفات 66 ہیں لیکن یہ بات اسلام کے خلاف ہے۔بولو! نعرہ تکبیر۔اور جاہل عوام فوراً الله اَكْبَر کا نعرہ لگا دیں گے۔میں نے جب اُس امریکن سے یہ باتیں کیں تو وہ سخت حیران ہوا اور کہنے لگا میں تو نہایت اطمینان سے جار ہا تھا اور سمجھتا تھا کہ پاکستان میں کمیونزم کے پھیلنے کا کوئی امکان نہیں۔میں نے کہا آپ کا اندازہ غلط ہے۔یہاں کمیونزم بآسانی پھیل سکتا ہے اور اسے پھیلانا جماعت اسلامی اور بعض اُن کے تابع مولویوں نے ہے اور بھارت کے کمیونسٹوں نے ہندوستان سے پہلے یہاں بغاوت کروانی ہے۔اس سلسلہ میں ایک اور مولوی کا واقعہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔ایک مولوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا تھا اور گو وہ احمدی نہیں تھا مگر اُسے آپ سے عقیدت تھی۔وہ ایک دفعہ آپ کو ملنے کے لیے آیا اور اُس نے کہا مجھے آپ سے ایک شکوہ ہے۔آپ نے یہ کیا کیا کہ وفات مسیح کا اعلان کر دیا؟ آپ نے فرمایا اس میں غلطی کا کیا سوال ہے؟ خدا تعالیٰ کا حکم تھا میں نے اس کی تعمیل کر دی۔اُس نے کہا آپ نے یہ خیال نہیں کیا کہ مولوی یہ بات سنیں گے تو آپ کی سخت مخالفت کریں گے۔آپ نے پہلے انہیں قابو کر لینا تھا۔آپ نے فرمایا وہ کس طرح؟ اس نے کہا جب آپ نے وفات مسیح کا اعلان کرنا تھا تو مولویوں کو ایک بہت بڑی دعوت دینی تھی اور یہ دعوت بھی لاہور یا دتی ؟