خطبات محمود (جلد 35) — Page 325
$1954 325 خطبات محمود کسی شہر میں دینی تھی۔اُس میں آپ اچھے اچھے کھانے پکواتے اور ہر مولوی کو کچھ نہ کچھ نذرانہ دیتے اور پھر اُن کے سامنے یہ مسئلہ رکھتے کہ اسلام پر ایک بھاری مصیبت آئی ہوئی ہے۔عیسائی ترقی کر رہے ہیں اور اسلام روز بروز تنزل میں جا رہا ہے۔عیسائی اس تعلیم پر زور دیتے ہیں کہ ہمارا مسیح زندہ ہے اور آسمان پر بیٹھا ہے اور تمہارا نبی زمین میں مدفون ہے۔اور یہ رف ہم ہی نہیں کہتے بلکہ تمہارا اپنا عقیدہ بھی یہی ہے کہ مسیح دوبارہ آئے گا۔مولویوں نے اس پر کہنا تھا کہ بات تو بڑی کٹھن ہے۔آپ ہی کوئی تجویز بتائیں کہ اس مشکل کو کس طرح دور کیا جائے۔آپ کہتے آپ لوگ علماء ہیں آپ ہی اس بات پر غور کر کے کوئی فیصلہ کریں۔میں اس کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں۔میری رائے تو یہی ہے کہ ہمیں اس غلط عقیدہ نے سخت نقصان پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان وجود بھی وفات پا گیا تو اور کوئی موت سے کس طرح بچ سکتا ہے؟ اس پر مولویوں نے کہنا تھا کہ آپ بسم اللہ کریں اور وفات مسیح کا اعلان کر دیں۔جب آپ ان کے منہ سے یہ بات کہلوا لیتے تو پھر دوسری بات یہ پیش کرتے کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ مسیح مرگیا ہے اور آسمان پر زندہ موجود نہیں تو عیسائی کہیں گے وہ مسیح جس نے دوبارہ آنا تھا وہ کہاں سے آئے گا۔آپ علماء ہیں آپ بتائیں کہ ہم اس اعتراض کا کیا جواب دیں گے؟ اس مولوی صاحبان نے پھر یہی کہنا تھا کہ آپ ہی بتا ئیں اس کا کیا جواب ہے۔اس پر آپ پھر کہتے کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں آپ لوگ علماء ہیں جواب تو آپ ہی دے سکتے ہیں۔اس پر علماء نے تنگ آکر خود ہی کہنا تھا کہ پھر ہم کہہ دیں گے کہ وہ مسیح اسی امت سے آنا ہے۔اس پر آپ کہتے کہ اگر انہوں نے یہ کہا کہ آمد مسیح کی علامات تو پوری ہو رہی ہیں۔وہ مسیح کہاں تو اس کا کیا جواب دیں؟ وہ پھر آپ سے کہتے کہ آپ جواب سمجھا ئیں۔آپ پھر ان سے کہتے کہ نہیں یہ مقام آپ کا ہی ہے کہ آپ جواب دیں۔اس پر پھر وہ خود کہتے کہ پھر آپ دعوای کر دیں کہ میں ہی وہ مسیح ہوں۔اس طرح بغیر مولویوں کو اشتعال دلانے کے آپ کا کام ہو جاتا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسکرائے اور فرمایا اگر یہ انسانی منصوبہ ہوتا تو میں ایسا ہی کرتا لیکن یہ تو خدا تعالیٰ کا حکم تھا۔اس میں انسانی تدبیر کا کوئی دخل نہیں۔