خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 313

$1954 خطبات محمود لوگوں پر 313 بھی مرکزی کابینہ میں لیے جائیں۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جن کے ذریعہ وہ مسلمانوں کو اُن خطرات سے بچا لے جو انہیں آئندہ پیش آنے والے ہیں۔ذاتی طور پر میری تو یہی رائے تھی کہ مسلم لیگ کو جس نے پاکستان کو حاصل کرنے میں نمایاں کام کیا ہے کچھ مدت کام کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ وہ اپنے اس کام کی تکمیل کر سکے جس کے کرنے میں اس نے بہت سی قربانیاں کی تھیں۔لیکن اس بات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لیگ کے وہ ممبر جنہوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں کی تھیں ان میں سے ایک حصہ ب مسلم لیگ سے نکل گیا ہے یا انہیں باہر نکال دیا گیا ہے۔اور موجودہ مسلم لیگ کچھ تو اُن پر مشتمل ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں کی تھیں اور کچھ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے قربانیاں تو نہیں کی تھیں ہاں بعد میں عزت کے لیے شامل ہو گئے تھے۔مسلم لیگ سے اُن لوگوں کا نکل جانا جنہوں نے ملک کی خاطر قربانیاں کی تھیں ایک ایسی چیز ہے جو دل میں افسوس پیدا کرتی ہے۔پھر موجودہ ممبروں میں سے بعض سے ایسی حرکات سرزد ہوئی ہیں جو تکلیف دینے والی ہیں۔مثلاً مسلم لیگ کے ایک ممبر جو بڑی حیثیت کے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے ایک دورہ پر باہر گئے اور اُس جگہ انہوں نے تین چار تقاریر کیں۔ان تقاریر میں انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک احمدی مرتد اور واجب القتل ہیں۔اگر ہمیں طاقت ملے تو ہم انہیں قتل کر دیں ورنہ ہم انہیں اقلیت ضرور قرار دے دیں گے۔گویا وہ حکومت جس نے اس قسم کی تقاریر کو فتنہ و فساد کا موجب قرار دیا اور فسادات کی تحقیقات کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری مقرر کی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس قسم کی تقاریر ہوتی رہیں تو حکومت زیادہ دیر تک چل نہیں سکتی۔اس قسم کی تقاریر حکومت کی جڑوں پر تبر رکھنے کی مصداق ہیں۔اس حکومت کا ایک نمائندہ باہر جاتا ہے اور اس قسم کی تقاریر کرتا ہے۔اس غیر ملک کی حکومت نے اس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔اتنے میں وہ پاکستان آ گیا اور اس طرح اس کی جان بچ گئی۔بہر حال اس نے فتنہ پیدا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ہماری مقامی جماعت نے عقلمندی سے کام لیا کہ جب پولیس نے کارروائی شروع کی اور احمدیوں سے پوچھا کہ اگر وہ چاہیں تو مقامی غیر احمدی