خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 296

خطبات محمود 296 سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے Z $1954 پس جو لوگ گھروں سے پڑھ کر آئے ہیں سلسلہ نے ان کی تعلیم پر کوئی خرچ نہیں کی کیا۔ان پر بھی کم ذمہ داری نہیں۔انہیں بھی خدا تعالیٰ نے دیا تھا تو وہ پڑھے تھے۔اگر خدا تعالیٰ انہیں توفیق نہ دیتا تو وہ کیسے تعلیم حاصل کر سکتے۔یہ صرف ایک پردہ ہے ورنہ خدا تعالیٰ ہی سب کچھ کرتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ شکوہ پایا جاتا ہے کہ علماء تو سب نائی، موچی اور دھوبی ہیں اور ایک حد تک اُن کی یہ بات درست بھی ہے لیکن آخر ایسا کیوں ہوا؟ اسی لیے ہوا کہ بڑے تاجروں اور زمینداروں نے خدمتِ دین سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔اب کیسے ہو سکتا ہے کہ بڑے بڑے تاجر اور زمیندار خدمت دین نہ کریں تو خدا تعالیٰ اپنے دین کو مرنے دے اور نائیوں، دھوبیوں اور موچیوں کو بھی اس کے زندہ رکھنے کی توفیق نہ تم نے دین سے ہاتھ کھینچ لیا اور خدا تعالیٰ نے نائیوں اور موچیوں کو دین کی خدمت کی توفیق دے دی تو اب تم چڑتے کیوں ہو؟ اب وہی تمہارے سردار ہیں اور انہی کے پیچھے تمہیں چلنا ہو گا۔میں سمجھتا ہوں کہ جو آجکل مسلمانوں کا حال ہے وہی آئندہ تمہارا ہو گا۔اگر تم نے بھی خدمت دین سے ہاتھ کھینچ لیا تو کچھ عرصہ کے بعد تمہاری نسلیں بھی یہی کہیں گی کہ نائیوں، دھوبیوں اور موچیوں نے علماء کی جگہ لے لی ہے۔آجکل بھی دیہات اور قصبات میں زیادہ تر عالم بروالے، نائی، دھوبی یا موچی ہیں اور یہ قابلِ اعتراض بات نہیں۔اس کے یہ معنے ہیں کہ جب دین کا بیڑا غرق ہونے لگا تو اُس وقت جو دین کی خدمت کے لیے آگے آگئے خدا تعالیٰ نے انہیں عزت دے دی۔اسی طرح اگر اب تم آگے نہ آئے تو تمہارے ساتھ بھی یہی ہوگا۔جب جماعت ترقی کرے گی تو انہی لوگوں کو عزت حاصل ہو گی جو اُس وقت دین کی خدمت کریں گے۔پاکستان میں دیکھ لو مولانا عبدالحامد بدایونی تقریر کرتے ہیں تو کبھی اُس کی صدارت دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خاں کرتے ہیں اور کبھی اُس کی صدارت خود گورنر جنرل کرتے ہیں۔حالانکہ پاکستان بننے سے قبل انہیں کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی نہیں بلاتا تھا۔جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پاکستان بنانے کی توفیق دی تو اس نے علماء کو بھی