خطبات محمود (جلد 35) — Page 295
$1954 295 خطبات محمود ، فضل کیا اور ہمیں ایک آدمی مل گیا۔اُس نے کہا مجھے آپ دس روپیہ ماہوار دے دیا کریں میں کی جائیداد کا انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی وہ جائیدادیں جس کی آمد اس قدر بھی نہیں تھی کہ ہم پندرہ بیس روپے ماہوار پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں اُس سے آمد پیدا ہونے لگی۔جب قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کرنے کا سوال پیدا ہوا تو میں نے اُس وقت فیصلہ کیا کہ ہم اپنے خرچ پر اسے شائع کریں گے۔چنانچہ میں نے اُس شخص کو بلایا اور کہا کہ مجھے اشاعت قرآن کریم کے لیے کچھ رقم کی ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا آپ کو اس رقم کی کب ضرورت ہے؟ میں نے کہا مہینہ دو مہینہ میں مل جائے۔اُس نے کہا میرا یہ خیال تھا کہ آپ یہ کہیں گے کہ مجھے اسی وقت رقم کی ضرورت ہے۔میں آپ کو آج شام تک مطلوبہ رقم لا دوں گا۔میں نے کہا تم شام تک رقم لا دو گے؟ آخر کہاں سے لاؤ گے؟ مجھے دواڑھائی ہزار روپے کی ضرورت ہے۔اُس نے کہا کہ مجھے کچھ زمین بیچنے کی اجازت دے دیں اور اُس نے اُس زمین کی طرف اشارہ کیا جہاں آجکل قادیان میں محلہ دارالفضل آباد ہے۔اُس نے کہا میں پچاس روپے فی کنال کے حساب سے زمین بیچ دوں گا اور اس طرح قریباً چھ ایکڑ زمین کی فروخت سے دواڑھائی ہزار روپیہ مل جائے گا۔میں نے کہا بہت اچھا! تمہیں زمین فروخت کرنے کی اجازت ہے۔لیکن کیا تمہیں کوئی شخص پچاس روپے فی کنال کے حساب سے قیمت دے دے گا؟ اُس نے کہا ہاں بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس بھاؤ پر زمین خریدنا چاہتے ہیں۔چنانچہ ظہر کے وقت اُس نے یہ بات کی اور عصر کے وقت اُس نے روپیہ لا کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا ابھی بہت سے گاہک موجود ہیں۔اگر آپ سو روپیہ فی کنال بھی قیمت کری دیں تو وہ خریدنے کے لیے تیار ہیں۔پھر وہی زمین تھی جو دس دس ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے ہم نے خود خریدی۔جہاں میرا دفتر تھا وہاں پر کچھ زمین ہم نے ہمیں ہزار روپیہ کنال کے حساب سے خریدی۔یہ سب خدا تعالیٰ کی دی ہوئی چیز تھی۔ورنہ ہم تو اپنی جائیداد سے اتنی آمد کی امید بھی نہیں رکھتے تھے کہ پندرہ میں روپیہ پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں۔بعد میں وہی جائیداد کروڑوں روپیہ کی ہو گئی۔غرض ہر چیز خدا تعالیٰ نے دی ہے۔حضرت مسیح موعود یہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں