خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 282

$1954 282 خطبات محمود اور چونکہ اس نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اس لیے اب میرا فرض ہے کہ اُس کے اعتماد کے مطابق اُس سے سلوک کروں۔اگر حضرت ابن عباس زید بکر کے لیے اپنی جان لڑا دیتے تھے کہ اُس کی نے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا تو پھر یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لیے چنا کہ ہم اُس کے دین کا جھنڈا بلند کریں اور اُسے ہر ملک میں گاڑ دیں۔لیکن ایک حقیر سی دولت کے لیے ہم اس کے کام کو نظر انداز کر رہے ہیں۔آخر پاکستان کتنا بڑا ملک ہے۔پاکستان کی حکومت چھوٹی سی حکومت ہے اور پھر اس میں جو حصہ تمہارا ہے وہ کتنا ہے؟ اس میں تمہارا حصہ تو بہت ہی کم ہے۔اس معمولی سی دولت کو خدا تعالیٰ کے انتخاب پر مقدم کر لینا کتنے افسوس کی بات ہے۔پس میں تمہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تمہارا اندھا پن ہے اسے دور کرو۔یہ بیماری ہے اس کا علاج کرو۔اگر تمہاری آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے، اگر تمہاری آنکھوں میں لگرے پڑتے ہیں، اگر تمہاری آنکھوں میں سفیدہ پڑتا ہے تو تم اس کا علاج کراتے ہو۔اب اس سے زیادہ سفیدہ، موتیا اور لکرے اور کیا ہوں گے کہ تم دنیوی مقاصد کو خدا تعالیٰ کے دین پر مقدم رکھتے ہو۔یہ بڑا سخت سفیدہ ہے، یہ بڑے سخت لکرے ہیں جو تمہاری روحانی بینائی کو تباہ کر رہے ہیں۔پس میں سکول کے اساتذہ اور کالج کے پروفیسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس طرف توجہ کریں اور طلباء کو وقف کی طرف لائیں۔میں نے لاہور میں ایک واقف زندگی پروفیسر سلطان محمود صاحب شاہد کو ایک دفعہ تحریک کی کہ تم طلباء کے رجحانات کا جائزہ لے کر وہ مضامین کی تجویز کرو جو اُن کے لیے آئندہ زندگی میں مفید ثابت ہوں۔لیکن چار سال ہو گئے اُن کی طرف سے کوئی رپورٹ نہیں آئی۔دو تین ماہ کے بعد میں نے انہیں پکڑا اور کہا کہ تم نے اب تک اس تحریک کے بارہ میں کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں لڑکوں کو اکٹھا کر رہا ہوں۔کچھ دنوں کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر سکوں گا۔لیکن چار سال کا عرصہ گزر گیا۔اب تک انہوں نے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔اس عرصہ میں کئی لڑکے بھاگ گئے اور باہر کاموں پر لگ گئے جہاں پروفیسروں کی یہ حالت ہو وہاں طالبعلموں کی کیا حالت ہوگی؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ مرے وہ باؤ ! اے مرگ ایسی آپ ہی بیمار ہے یعنی اے موت! تجھے خوشخبری ہے ہو