خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 281

$1954 281 خطبات محمود آئے گا اور اگر پچاس طالبعلم ہوں تب بھی یہ خرچ آئے گا۔گویا اس سال ایک طالبعلم پچاس گنا خرچ کرنا پڑے گا۔اور اگر خدانخواستہ وہ لڑکا امتحان میں فیل ہو گیا تو ایک سال خالی رہ جائے گا۔اور یا پھر اس کلاس میں صرف فیل شدہ لڑکے داخل کرنے پڑیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ بیرونِ ہندوستان کی جماعتوں میں وقف کی تحریک کی طرف اب زیادہ توجہ پیدا ہو رہی ہے۔اس سال امریکہ سے تین چار نوجوانوں کی طرف سے درخواستیں وصول ہو چکی ہیں کہ ہم دینی تعلیم کے حصول کی خاطر پاکستان آنا چاہتے ہیں۔یورپ سے دو تین نوجوانوں کی درخواستیں آئی ہیں۔وہ بھی دینی تعلیم کی خاطر مرکز میں آنا چاہتے ہیں۔اسی طرح انڈونیشیا، سیلون اور افریقہ سے بھی بعض نوجوانوں کی درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔گویا جن ممالک میں آمد نیں زیادہ ہیں اُن ممالک سے وقف کی درخواستیں آ رہی ہیں۔یورپ میں معمولی سی تعلیم کے ساتھ لوگ جس قدر آمد پیدا کر لیتے ہیں پاکستان کے رہنے والے نہیں کر سکتے۔لیکن اُن لوگوں کی طرف سے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔ہم انہیں اس لیے نہیں بلاتے کہ پہلے جو طلباء آچکے ہیں وہ ابھی تعلیم سے فارغ نہیں ہوئے۔غرض جہاں دفتر میں بیرونی ممالک کے احمدیوں کی بارہ تیرہ درخواستیں پڑی ہوئی ہیں وہاں پاکستان کے احمدیوں کی توجہ اس طرف بہت کم ہے۔حالانکہ پاکستان یا ہندوستان جس میں پاکستان اور بھارت شامل تھے ، وہ ملک ہے جسے خدا تعالیٰ نے چن لیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کسی اور ملک کو زیادہ قابل سمجھتا تو وہ اپنا مسیح اُس ملک میں مبعوث کرتا لیکن اُس نے اپنے مسیح کی بعثت کے لیے ہمارے ملک کو چن کر ایک تو ہم پر احسان کیا اور دوسرے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا جس کا بدلہ دینا ہم پر فرض ہے۔حضرت ابن عباس سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ کسی شخص کے لیے اس قسم کی دعا بھی کرتے ہیں جس قسم کی دعا آپ اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں ؟ آپ نے کہا ہاں۔میں اُس شخص کے لیے اس قسم کی دعا کرتا ہوں جو مجھے آ کر یہ کہتا ہے کہ مجھے آپ کے سوا اور کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آتا۔ایسے شخص کے لیے میں اُسی قسم کی دعا کرتا ہوں جس قسم کی دعا میں اپنی ذات کے لیے کرتا ہوں۔اس لیے کہ اس نے مجھ پر اعتماد کیا ہے۔