خطبات محمود (جلد 35) — Page 280
$1954 280 خطبات محمود اندازہ نہیں کیا کہ بڑے عہدے گنتی کے ہوتے ہیں اور وہ صرف گنتی کے چند افراد کو ہی مل سکتے ہیں۔دوسرے لوگ تو پہلے کی طرح نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے پھریں گے۔پھر انہوں نی نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ وزارت، سیکرٹری شپ یا ڈائریکٹر شپ انہیں ضرور ملے گی۔اب بھی کی ملک میں دیکھ لو، کئی ایم۔اے اور بی۔اے پاس لوگ فارغ ہیں۔انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں۔مگر یہ نقطہ نگاہ تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب خدا کے خانہ کو خالی چھوڑ دیا جائے۔اگر خدا تعالیٰ کے خانہ کو خالی نہ چھوڑا جائے تو انہیں سمجھنا چاہیے کہ دین کی خدمت کا ثواب دائمی ہے اور دنیوی مالی ایک عارضی اور فانی چیز ہے۔جو شخص تمھیں یا چالیس سالہ زندگی کے لیے اتنی محنت کرتا ہے اور تین کروڑ یا تین ارب سال کی آئندہ زندگی کو نظر انداز کر دیتا ہے وہ کس طرح امید کر سکتا ہے کہ ہم اسے عظمند سمجھ لیں۔اگر وہ خدمت دین کرتا ہے تو ایک نہ ختم ہونے والے عرصہ کے لیے انعام پاتا ہے۔وہ انعام اور اجر تین کروڑ سال کے لیے نہیں ، تین ارب سال کے لیے نہیں بلکہ ایسے زمانہ کے لیے ہے جسے اسلام نے نہ ختم ہونے والا کہا ہے۔اور جو زمانہ نہ ختم ہونے والا ہو وہ بہر حال تین کروڑ یا تین ارب یا تین کھرب سال سے زیادہ ہو گا اور اتنے لمبے عرصہ کے فائدہ کو چند سالہ فائدہ کے لیے نظر انداز کر دینے والا عقلمند نہیں کہلا سکتا۔میں نے سنا ہے کہ اس سال مدرسہ احمدیہ میں صرف ایک طالب علم داخل ہوا ہے۔اس میں کسی حد تک سکول والوں کی ناتجربہ کاری کا بھی دخل ہے۔جب سید محمود اللہ شاہ صاحب فوت ہوئے اور موجودہ ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے تو انہیں یہ خیال نہ آیا کہ سال بھر طلباء کو وقف کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔سید محمود اللہ شاہ صاحب اس کے لیے سال بھر کوشش کرتے رہتے تھے اور مجھے وقتاً فوقتاً بتاتے رہتے تھے کہ میں نے اتنے لڑکوں سے وقف کا وعدہ لیا ہے اور اس طرح مدرسہ احمدیہ میں کچھ نہ کچھ طلباء آ جاتے تھے۔لیکن اب جو نئے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے ہیں انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وقف کی تحریک تو جاری ہی ہے طلباء خود بخود وقف کی طرف آ جائیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال طلباء کو اس کا احساس پیدا نہ ہوا۔اگر وہ سال کے شروع سے ہی کوشش کرتے اور طلباء کو وقف کی طرف توجہ دلاتے رہتے تو کچھ نہ کچھ طلباء وقف میں آجاتے۔ایک کلاس پر کئی ہزار روپے سالانہ خرچ آتا ہے۔اگر ایک طالبعلم ہو تب بھی یہ خرچ