خطبات محمود (جلد 35) — Page 279
$1954 279 خطبات محمود کیونکہ اس سے سجدہ کو نا پسند کرنے والوں سے تشابہہ پیدا ہو جاتا تھا۔2 چنانچہ جس حدیث سے تکیہ پر سجدہ نہ کرنے کا استدلال کیا گیا ہے اُس کے بارہ میں یہی تشریح آتی ہے کہ جس شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنے سے منع کیا تھا اُس نے تکیہ زمین پر رکھ کر سجدہ نہ کیا تھا بلکہ تکیہ اُٹھا کر سجدہ کیا تھا جو صاف مذکورہ بالا کافر کی مشابہت تھی۔چنانچہ علماء حدیث نے اس سے یہی استدلال کیا ہے کہ تکیہ پر سجدہ منع نہیں۔بلکہ کوئی چیز اُٹھا کر اُس پر سجدہ کرنا منع ہے۔ورنہ ثابت ہے کہ امہات المومنین میں سے بھی بعض بیماری میں تکیہ پر سجدہ کرتی تھیں اور بعض دوسرے صحابہ کی روایات سے بھی پتا چلتا ہے کہ مسلمان شروع سے ایسا کرتے چلے آئے ہیں کہ اگر کسی کو کوئی عذر ہوا تو اُس نے اشارہ سے یا کسی اور چیز کا سہارا لے کر سجدہ کر لیا۔پس اس سے منع کرنے میں کوئی عقلی استبعاد نظر نہیں آتا۔البتہ یہ ضرور ہے کہ جس طرح سجدہ میں انسان اوپر سے نیچے کی طرف جاتا ہے اسی طرح اشارہ بھی اوپر نیچے کیا جاتا ہے۔پس اشارہ میں سجدہ سے ایک مشابہت ہے جو دوسری صورت میں یعنی تکیہ اُٹھا کر اُس پر سجدہ کرنے میں نہیں ہوسکتی۔اس کے بعد میں جماعت کے نوجوانوں کو بالخصوص اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت میں کچھ عرصہ سے وقف کی طرف توجہ نہیں رہی خصوصاً جب سے پاکستان بنا ہے اُس وقت سے لوگوں کی توجہ وقف کی طرف سے جاتی رہی ہے۔اس سے پہلے نوکریوں کا جھگڑا ہوتا تھا، جو اچھی نوکریاں ہوتی تھیں وہ انگریز لے جاتے تھے ، جو دوسرے درجے کی نوکریاں تھیں وہ ہندو لے جاتے تھے اور جو درمیانی درجہ کی نوکریاں ہوتی تھیں وہ سکھ لے جاتے تھے اور جو گند رہتا تھا وہ مسلمانوں کے حصہ میں آتا تھا۔اُس وقت مسلمان سمجھتا تھا کہ چلو! نوکری نہ سہی، خدمت دین ہی سہی۔لیکن پاکستان بننے کے بعد ساری نوکریاں مسلمانوں کو ہی ملتی ہیں۔اب اُن کا انگریزوں، ہندوؤں اور سکھوں سے مقابلہ نہیں رہا۔اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب انہی جیسے ایم۔اے اور بی۔اے وزیر ہیں، سیکرٹری ہیں، ڈائریکٹر ہیں اور انسپکٹر جنرل پولیس وغیرہ ہیں تو وہ بھی کیوں ویسے ہی نہ بنیں؟ پس وہ نوکریوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور خدمت دین کا خیال انہیں نہیں رہا۔حالانکہ یہ اُن کے دماغ کی کمزوری کی علامت ہے کہ انہوں نے اس بات کا