خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 278

$1954 278 خطبات محمود وہ بھی جلد دور ہو گیا اور درد میں بھی کمی واقع ہوگئی لیکن میں ابھی تک اچھا نہیں ہوا کیونکہ مرض کے چھوٹے چھوٹے حملے ہوتے رہتے ہیں۔بہر حال اس تکلیف کی وجہ سے میں روزانہ نماز میں نہیں آسکا۔جمعہ کے لیے آ گیا ہوں لیکن میں کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھا سکتا بیٹھ کر پڑھا دوں گا اور سجدہ کے وقت میں اشارہ کروں گا۔گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے بتایا تھا کہ چونکہ بیماری کی وجہ سے میں سجدہ نہیں کر سکتا اس لیے میں نے گاؤ تکیہ منگوا لیا ہے۔میں اُس پر سجدہ کر لوں گا۔اس پر مجھے جماعت کے بعض علماء نے خط لکھا کہ بعض طلباء نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سجدہ کے لیے نماز میں تکیہ پر سجدہ کرنا ناجائز ہے۔اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے سجدہ نہ کر سکتا ہو تو اُسے اشارہ کرنا چاہیے سجدہ کے لیے کسی چیز کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔دوسرے، علماء نے تحقیقات کر کے بعض اس قسم کی حدیثیں بھی نکالی ہیں کہ بعض صحابہ نے پگڑی یا کسی اور چیز کا سہارا لے کر سجدہ کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ بعض چیزوں کی حکمت واضح ہوتی ہے اور بعض چیزوں کی حکمت واضح نہیں ہوتی۔اشارہ سے سجدہ کرنا اور کسی تکیہ پر یا اونچی جگہ پر سجدہ کرنا ان دونوں باتوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں۔ایک صورت میں سر زمین پر نہیں لگتا اور ایک صورت میں دوسری چیز کے واسطہ سے کسی حد تک سر زمین پر لگ جاتا ہے۔لیکن ادھر ایک حدیث میں جسے صحیح کہا جاتا ہے یہ امر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر کی بناء پر سجدہ نہ کر سکے تو وہ اشارہ سے سجدہ کرلے۔میرے نزدیک اس حکم کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی۔آخر میں جب آپ نے سجدہ فرمایا تو مشرکین مکہ جو اُس وقت وہاں موجود تھے وہ بھی سجدہ میں گر گئے سوائے ایک شخص کے کہ جس نے سجدہ نہ کیا اور وہ سجدہ کو بُرا سمجھتا تھا۔لیکن دوسری طرف جب اُس نے دیکھا کہ اُس کی قوم کے سب لوگوں نے کی سجدہ کیا ہے تو وہ ان سے علیحدہ رہنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔چنانچہ اس نے ہتھیلی میں کچھ کنکر اُٹھائے اور اُن پر سجدہ کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت بعض لوگ ایسے بھی۔تھے جو خدا تعالیٰ اور اپنے معبودوں کے سامنے بھی سر جھکانا بُرا سمجھتے تھے۔ایسے لوگوں کے خیالات کا ازالہ کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ تم ایسا نہ کیا کرو۔