خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 263

$1954 263 خطبات محمود ہے اگر وہ اُسے نہیں نکالیں گے تو کون نکالے گا۔ایک شخص کے گھر میں نلکا موجود ہو لیکن وہ اس میں روئی اور لوہا ٹھونس دے اور پھر شور مچانا شروع کر دے کہ پانی لاؤ، پانی لاؤ، میں مر گیا۔تو اُسے لوگ کم عقل ہی کہیں گے کیونکہ پانی اُس نے خود بند کر دیا ہے۔پس چیزیں پرنسپلوں، پروفیسروں، ہیڈ ماسٹروں، ماسٹروں اور ماں باپ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ان کا کام ہے کہ نئی پود کو روشن دماغ بنا ئیں۔ہر بات میں ایک چھوٹا سا نکتہ ہوتا ہے۔اگر اسے نظرانداز کر دیا جائے تو بات کا مفهوم بالکل بدل جاتا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جماعت کو بارہا سمجھایا ہے کہ قرآن کریم میں جو یہ آیت آتی کہ قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تم نے یہ بات کہی تھی تو کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ تو وہ اِس سے انکار کریں گے اور کہیں گے جب تک میں زندہ رہا میں اُن پر نگران رہا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو اُن کا نگران تھا۔میرے بعد جو کچھ ہوا اُس کا مجھے علم نہیں۔3 اسے اس اس رنگ میں مخالفین کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ اسی آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیحی، مسیح کی زندگی میں نہیں بگڑے۔لیکن جماعت کے اکثر دوست جب بھی اس آیت کو پیش کریں گے، غلط کریں گے۔اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ اصل نکتہ کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور زینت کی چیز کو لے لیتے ہیں۔جیسے کوئی فوٹو پھینک دے اور فریم کو سنبھال کر رکھ لے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اتنی مدت تک اس آیت کا مفہوم سمجھانے کے بعد بھی جماعت اس کے پیش کرنے کا صحیح طریق نہیں سمجھتی۔اگر وہ ذہانت سے کام لیتی تو یہ بات سمجھ میں آسکتی تھی۔ہمیں بچپن سے جو آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا حضرت خلیفہ اول نے سمجھائی ہیں وہ اب تک ہمیں یاد ہیں۔دشمن جب اعتراض کرتا ہے ہم اُس اعتراض کا فوراً جواب دے دیتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہی باتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھائی تھیں لیکن نوجوان مولوی انہیں جلد بھول جاتے ہیں۔بسا اوقات جماعت کے نوجوان علماء بعض اعتراض لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ نیا اعتراض ہے۔حالانکہ وہ نیا اعتراض نہیں ہوتا۔اُس کا جواب بارہا دیا جا چکا ہوتا ہے۔