خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 262

$1954 262 خطبات محمود ہو؟ ہاں! اگر اُس کے پاس راکفل ہے تو تم کہہ سکتے ہو اندر رائفل لے جانے کی اجازت نہیں لیکن نماز سے روکنے کا تمہیں پھر بھی کوئی حق نہیں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم عقل اور فکر سے کام لینے کی عادت ڈالو۔اگر تم عقل اور خرد سے کام لو تو تمہارا مقابلہ کوئی قوم نہیں کر سکتی۔یورپ والے عقل اور خرد سے کام کر رہے ہیں لیکن اُن کے پاس نور ایمان موجود نہیں۔اُن کے پاس آنکھ ہے لیکن نور موجود نہیں۔اور آنکھ بغیر نور کے کیا کر سکتی ہے ؟ ہاتھ تو موجود ہیں لیکن اگر ہاتھ میں طاقت نہ ہو تو وہ کس نام کا؟ تمہیں خدا تعالیٰ نے نور قرآن بخشا ہے۔اگر تم عقل اور خِرد سے کام لو تو تمہارے پاس چمکنے والی آنکھ اور پلنے والا ہاتھ ہوگا اور یورپین تو میں بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔لیکن باوجود بار بار سمجھانے کے میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے دوست سمجھتے نہیں۔میں نے کالجوں ورسکولوں کو اس طرف بار ہا توجہ دلائی تھی کہ اگر بڑی عمر والے نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں تم نئی پود کو تو عقلمند بنا دو۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب کارکن میرے پاس آتے ہیں تو کتنی ہی چھوٹی بات کیوں نہ ہو اُس میں وہ غلطی کر جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں دراصل میں یوں سمجھتا تھا حالانکہ ان کے ایسا کہنے کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں نے آپ کی بات بالکل نہیں سمجھی تھی۔اگر یہ نقص نئی پود میں موجود ہے تو کالجوں اور سکولوں کا کیا فائدہ؟ مثلاً ہمارا کالج ہے۔اُس کا ایک طالبعلم ہے وہ کسی نقص کی وجہ سے گورنمنٹ سروس میں نہیں جا سکتا تھا۔میں نے اُسے اپنی زمینوں پر لگا لیا اور خیال کیا کہ اُس کا دماغ اچھا ہو گا۔اُس کے مجھے بل پر بل آ رہے ہیں کہ یہ بھیجو، روپیہ بھیجو۔حالانکہ واقع یہ ہے کہ سیل ایجنٹ اُسے خط پر خط لکھ رہا ہے کہ روپیہ قابل فروخت اشیاء مجھے فروخت کے لیے بھجواؤ مگر وہ قابلِ فروخت اشیاء کو دبائے بیٹھا ہے اور مجھے لکھتا ہے کہ روپیہ بھیجو۔اب میں روپیہ کہاں سے بھیجوں؟ جس چیز سے روپیہ ملنا ہے اُس کو وہ خود دبائے بیٹھا ہے اور روپیہ مجھ سے مانگ رہا ہے۔اگر اس طرح ہوتا رہے تو زمیندارہ کا کام کیسے چلے؟ اب وہ شخص کالج میں پڑھا ہے اور چار پانچ سال تک کالج کے پروفیسروں نے اُس کی نگرانی کی ہے لیکن وہ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکا کہ میں جنس بیچوں گا نہیں تو روپیہ کہاں سے ملے گا؟ پرائمری پاس لوگ بھی یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ جس چیز کا منبع اُن کے پاس