خطبات محمود (جلد 35) — Page 245
$1954 245 خطبات محمود پر حضرت عیسی علیہما السلام کے وقت میں موجود تھا، اگر یہ عیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں موجود تھا اور اس سے ان سب انبیاء کی بدنامی نہیں ہوئی تو یہ کونسے بالائے انسانیت مرد ہیں کہ اس سے ان کی بدنامی ہوگی۔اگر بعض لوگوں کی ایسی بُرائیوں کی وجہ سے رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدنامی نہیں ہوئی تو یہ لوگ جو آپ کی جوتیوں کے غلام ہیں ان کی کیا بدنامی ہو گی۔ان عیوب کی تو کھلے بندوں مخالفت کرنی چاہیے۔اور اگر کوئی شخص اس ؟ اعتراض کرتا ہے تو تم اسے یہ جواب دو کہ اس قسم کے روحانی مریض ہر جگہ موجود ہیں۔ہماری خوبی یہ ہے کہ ہم انہیں دباتے ہیں اور تم انہیں بچاتے ہو، ہم انہیں اپنی جماعت سے نکالتے ہیں اور تم لوگ ان کی تعریفیں کرتے ہو۔اگر تم ایسا کہو گے تو ہر شخص تمہاری تعریف کرے گا اور کہے گا کہ یہ لوگ نیک ہیں۔یہ بدی کو چھپاتے نہیں بلکہ اسے مٹانے کی پوری کوشش کرتے ہ ہیں۔جو شخص بدی کو چھپاتا ہے وہ یقیناً بزدل ہے۔خواہ وہ بظاہر کیسا ہی بہادر سمجھا جاتا ہو کیونکہ وہ اپنے فرائض کے بجالانے میں لوگوں کے اعتراضات سے ڈرتا ہے۔میرے پاس صدرانجمن احمدیہ کے ممبروں کا ایک وفد آیا اور اس نے کہا کہ ہمیں ان باتوں پر پردہ ڈالنا چاہیے ورنہ اس سے ہماری بڑی بدنامی ہوگی۔میں نے کہا جب تم نے بیعت کی تھی تو تم نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم دین کی خاطر اپنی جان، مال اور عزت کی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اگر تم اب بدنامی سے ڈر رہے ہو تو عزت کے قربان کرنے کا وقت کب آئے گا۔یہی موقع ہے عزت کو قربان کرنے کا۔ورنہ عزت کو قربان کرنے کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ کوئی شخص اپنی عورتوں کو بازار میں بٹھا دے۔عزت کو قربان کرنے کے یہی معنے ہیں کہ احکام قرآن کو ماننے کی وجہ سے بعض جگہ بدنامی کا خطرہ ہو گا لیکن ہم اپنی عزت کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔پس جماعت کا قصور یہ ہے کہ جماعت اس قسم کے مجرموں کو منہ لگاتی ہے۔اگر کوئی شخص اس قسم کا جرم کرتا ہے تو جماعت کے دوست اس کی سفارش لے کر میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں آپ انہیں معاف کر دیں حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اگر جرم کرنے والا سفارش کرنے والوں کا باپ، بھائی، رشتہ دار یا دوست نہ ہوتا تو وہ کہتے جماعت کتنی خراب ہے، جماعت کا اخلاقی معیار دن بدن گر رہا ہے۔