خطبات محمود (جلد 35) — Page 213
$1954 213 خطبات محمود ایک دنیوی قانون ہے وہ بھی ہمارا جاری کیا ہوا ہے۔اور ایک روحانی قانون ہے وہ بھی ہمارا جاری کیا ہوا ہے۔كُلَّا تُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلاء اس گروہ کی بھی ہم مدد کرتے ہیں اور اُس گروہ کی بھی ہم مدد کرتے ہیں۔اگر کوئی خدا کا منکر ہو کر بھی دنیوی تدابیر اختیار کرتا ہے اور اُن سامانوں کو استعمال کرتا ہے جو خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔اور اگر کوئی خدا پر توکل کی بنیاد ڈال لیتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق جو یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر تو گل کروح اس کے پیدا کردہ اسباب اور ذرائع کو استعمال کرتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ پر توکل بھی کرتا ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔لیکن درمیانی طبقہ جو کہتا ہے کہ میں نہ ادھر کا ہوں اور نہ اُدھر کا اور جو لَا إِلى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلى هؤلاء کا مصداق ہوتا ہے وہ منافق ہوتا ہے۔نہ وہ اس قانون کی پابندی کرتے ہیں اور نہ اُس قانون کی پابندی کرتے ہیں۔جب نماز روزہ کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں نماز اور روزہ میں کیا رکھا ہے؟ یا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ نماز کی میں مرغوں کی طرح ٹھونگیں مارتے ہیں۔3 وہ بھی ایسی نماز پڑھتے ہیں جس میں نہ تضرع ہوتا ہے، نہ زاری ہوتی ہے، نہ دعا ہوتی ہے، نہ خدا تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے۔اسی طرح جب دوسروں سے معاملات کا وقت آتا ہے تو اُن میں اسلامی اخلاق نظر نہیں آتے بلکہ ان میں وہ اخلاق بھی نہیں ہوتے جو کم سے کم دنیا دار لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔اور جب انہیں کہا جائے کہ تم دنیوی تدابیر اختیار کرو، سائنس کی معلومات سے فائدہ اُٹھاؤ، محنت اور کوشش سے کام لو، خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ سامانوں کو استعمال کرو تو کہتے ہیں جانے دو ہم تو مذہبی آدمی ہیں۔گویا ان کی مثال بالکل شتر مرغ کی سی ہوتی ہے کہ نہ وہ اُڑتے ہیں اور نہ بوجھ اُٹھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم بالکل دہر یہ ہو جاؤ تب بھی میں تمہاری مدد کروں گا۔تم سچے ایمان دار بن جاؤ تب بھی میں تمہاری مدد کروں گا۔لیکن ایمان داری کا سوال آئے تو دہریہ بن جاؤ اور دہریت کا سوال آئے تو ایمان دار بن جاؤ یہ دوغلا پن ہے، جس کی موجودگی میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ یورپ والے کیوں ترقی کر رہے ہیں جبکہ وہ ایمان دار نہیں؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں دیا ہے کہ