خطبات محمود (جلد 35) — Page 214
$1954 214 خطبات محمود كُلًّا نُمِدٌ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلاء ہم اس کی بھی مدد کرتے ہیں اور اُس کی بھی مدد کرتے ہیں۔چاہے وہ ہمیں ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں مگر قانونِ قدرت کی پابندی کرنے والے ہوں۔اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کا انکار کرتا ہے لیکن وہ اُن ضروری سامانوں کو اختیار نہیں کرتا جو دنیوی ترقی کے لیے اُسے اختیار کرنے چاہیں ، وہ سائنس کی ایجادات سے فائدہ نہیں اُٹھاتا، وہ محنت اور کوشش سے کام نہیں لیتا ، وہ سستی اور کاہلی اور نکھے پن کو ترجیح دیتا ہے تو وہ بھی ناکام ہو گا۔اور اگر کوئی خدا پر توکل ظاہر کر کے پھر حقیقی رنگ میں تو کل نہیں کرتا ، جہاں کوشش کرنی چاہیے وہاں کوشش نہیں کرتا، جہاں محنت کرنی چاہیے وہاں محنت نہیں کرتا تو اُسے بھی وہ حصہ نہیں ملے گا جو دنیوی رنگ میں کوشش کرنے والوں کو الہی قانون کے ماتحت ملا کرتا ہے اور وہ حصہ بھی نہیں ملے گا جو خدا تعالیٰ کے خالص بندوں کو روحانی رنگ میں ملا کرتا ہے۔پس ہر شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ دوغلا پن انسان کو کبھی کامیاب نہیں کر سکتا۔دوغلا پن کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ہمارے ملک میں اینگلو انڈین (Anglo - Indain) ہوا کرتے تھے۔جن کے ماں باپ میں سے ایک انگریز ہوتا اور ایک ہندوستانی۔انگریز بھی انہیں پسند نہیں کرتے تھے اور ہندوستانی بھی انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔انگریز کہتے تھے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہیں اور ہندوستانی کہتے تھے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہیں۔جب پارٹیشن کا سوال پیدا ہوا تو لاہور میں اُن کی بھی میٹنگ ہوئی کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔اُس وقت ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا پہلے ہمیں یہ بتاؤ کہ ہم ہیں کیا؟ انگریز کہتے ہیں کہ تم ہم میں سے نہیں اور ہندوستانی کہتے ہیں کہ تم ہم میں سے نہیں۔پس ہمیں بتایا جائے کہ ہم کیا ہیں؟ اس ایک پر مذاق شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا میں بتاتا ہوں۔ایک عورت کے بچہ پیدا ہونے والا تھا مگر ابھی اُسے دردِ زہ شروع نہیں ہوا تھا اور وہ سمجھتی تھی کہ ابھی کچھ دیر ہے۔اس اطمینان میں وہ غسل خانے میں نہانے چلی گئی۔وہ طب میں بیٹھی ہی تھی کہ بچہ پیدا ہو گیا۔یہی ہمارا حال ہے۔ہم طب کے بچے ہیں۔نہ ہم گھر میں پیدا ہوئے ہیں نہ ہسپتال میں۔غسل خانے میں پیدا ہو گئے ہیں۔یہ انسان بھی ایسا ہی ہوتا ہے کسی کی نسل میں سے نہیں ہوتا۔نہ خدا اسے اپنا سمجھتا ہے اور نہ دنیا دار اسے اپنا سمجھتے ہیں۔یورپ والے کہتے ہیں