خطبات محمود (جلد 35) — Page 172
خطبات محمود آتی 172 $1954 پہنچانے کی بجائے اس کی عزت اور ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔جس طرح پہاڑ پر چڑھتے وقت پہلے چھوٹی پہاڑیاں آتی ہیں، پھر اُس سے بڑی پہاڑیاں آتی ہیں، پھر اُس سے بڑی پہاڑیاں ہی ہیں۔یہاں تک کہ انسان پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے۔اسی طرح خدا ہر مخالفت کے بعد اس سلسلہ کو ترقی دیتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے گا جب خدا اپنے وعدوں کے مطابق اس سلسلہ کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔اس کے بعد ہوسکتا ہے کہ جماعت کے لوگوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے ، وہ تکبر میں مبتلا ہو جائیں اور خدا تعالیٰ ان کو سزا دینے کے لیے ان سے اپنی برکات چھین لے۔اور یا پھر ممکن ہے کہ اُس وقت تک قیامت ہی آ جائے۔قیامت کے متعلق ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ کتنے عرصہ میں آنے والی ہے۔آیا پانچ سو سال کے بعد آئے گی یا ہزار سال کے بعد آئے گی یا دو ہزار سال کے بعد آئے گی۔انہی کلام تمثیلی الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے قطعیت کے ساتھ کسی رائے کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔بہر حال تمثیلی زبان میں جو پیشگوئیاں کی گئی ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات ہزار سال کے بعد دنیا پر قیامت کا آنا مقدر ہے۔پس یا تو اس مقام پر پہنچ کر جب احمدیت اپنی تمام اندرونی طاقتیں ظاہر کر دے گی اور اپنی تمام قابلیتیں دنیا میں نمایاں کر دے گی لوگوں میں بگاڑ پیدا ہونے پر قیامت آجائے گی۔اور یا پھر اللہ تعالیٰ اُس وقت اسلام کی ترقی کے لیے کوئی اور راستہ تجویز کر لے گا۔بہر حال جس طرح بیج زمین میں ڈالا جاتا ہے تو اس کے بعد ضروری ہوتا ہے کہ فصل اُگے اور بیج اپنی تمام مخفی طاقتیں ظاہر کرے۔اسی طرح روحانی جماعتیں جب اپنی تمام پوشیدہ طاقتیں ظاہر کر دیتی ہیں اور اپنے تمام حسن کو نمایاں کر دیتی ہیں تو اُس کے بعد اُن پر زوال آیا کرتا ہے اُس سے پہلے نہیں۔یہی پہلے ہوا اور یہی آئندہ ہو گا۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مذاہب زوال آنے پر بالکل کٹ گئے اور نئے مذاہب دنیا میں جاری کیے گئے لیکن احمدیت کوئی نئی چیز نہیں بلکہ اسلام کا ہی دوسرا نام ہے اور اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ قیامت تک قائم رہے گا۔اس لئے احمدی اگر کسی وقت گر جائیں گے تو اسلام پھر بھی قائم رہے گا اور کسی اور شکل میں دنیا میں ظاہر ہو جائے گا۔اور یہ تسلسل اسی طرح رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔