خطبات محمود (جلد 35) — Page 150
$1954 150 خطبات محمود صحابہ نے قربانیاں کیں وہ بظاہر کیسی بے فائدہ اور کیسی بے نتیجہ نظر آتی تھیں مگر پھر انہی قربانیوں کی کے نتیجہ میں مکہ فتح ہوا اور سارا عرب اسلامی جھنڈے کے نیچے آ گیا۔جب صحابہ مکہ میں قربانیاں کر رہے تھے اُس وقت کوئی شخص قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن انہی قربانیوں کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شوکت ملنے والی ہے۔اُس وقت جن عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں مارا جاتا تھا، جن مردوں کو اونٹوں کے ساتھ باندھ کر اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا تھا اُن عورتوں اور مردوں کی قربانیوں کو دیکھ کر ہر شخص سمجھتا تھا کہ یہ لوگ بریکار اپنی عمر میں ضائع کر رہے تھے۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عثمان بن مظعون بھی تھے۔عرب کا ایک مشہور ترین شاعر لبید ایک مجلس میں اپنے اشعار سنا رہا تھا کہ اُس نے یہ مصرعہ پڑھا اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ ہی ہے۔سنو کہ خدا کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے۔عثمان بن مظعون نے یہ مصرعہ سنتے بڑے زور سے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے۔خدا کے سوا واقع میں ہر چیز فنا ہونے والی عثمان بن مظعون اُس وقت چھوٹی عمر کے بچے تھے۔جب انہوں نے تعریف کی تو شاعر ناراض ہو گیا اور اُس نے لوگوں سے کہا کہ اس لڑکے نے میری ہتک کی ہے۔کیا میں اپنے اشعار میں ایک چھوکرے کی تائید کا محتاج ہوں؟ بعض لوگ اُسے مارنے کے لیے اُٹھے مگر بعض کی اور نے دخل دے کر اس معاملہ کو رفع دفع کرا دیا اور اسے کہہ دیا کہ اب تم نے کچھ نہیں کہنا۔اس کے بعد لبید نے اس شعر کا دوسرا مصرعہ پڑھا کہ وَ كُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ یعنی ہر نعمت بہر حال ایک دن ختم ہونے والی ہے۔اس پر عثمان بن مظعونؓ سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے کہا جنت کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔لبید کو سخت غصہ آب اور اُس نے کہا میں اس مجلس میں اب اپنے شعر سنانے کے لیے تیار نہیں۔اس پر لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے عثمان کو مارنا شروع کر دیا۔ایک شخص نے زور سے گھونسا مارا تو وہ عثمان بن مظعون کی آنکھ پر لگا اور ان کا ایک ڈیلا باہر نکل آیا۔اُن کے والد کا ایک