خطبات محمود (جلد 35) — Page 131
$1954 131 خطبات محمود وہ چندہ دینے میں بھی سست ہے اور دوسری طرف تم یہ بھی کہتے جاتے ہو کہ وہ بڑا مخلص ہے، بڑا نیک اور بڑا بزرگ ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے جرمنی کے ایک بادشاہ کا گھوڑا بیمار ہو گیا۔وہ گھوڑا بڑا قیمتی تھا۔اس نے ڈاکٹروں کا بلایا اور کہا کہ اس کا علاج کرو اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد اس کی حالت سے مجھے اطلاع دو۔اگر ایک ایک گھنٹہ کے بعد مجھے اطلاع نہ ملی تو میں تمہیں سخت دوں گا۔اور جس شخص نے آکر مجھے یہ اطلاع دی کہ گھوڑا مر گیا ہے میں اُسے قتل کر دوں گا۔ڈاکٹروں نے بڑی کوشش کی کہ وہ کسی طرح اچھا ہو جائے مگر وہ اچھا نہ ہوا اور مر گیا۔اب کی بادشاہ کو اطلاع پہنچانا بھی ضروری تھا اور دوسری طرف وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ جس نے یہ اطلاع کی پہنچائی اسے قتل کر دیا جائے گا۔آخر سوچ کر انہوں نے بادشاہ کے ایک منہ چڑھے نوکر کو بلوایا اور اُسے کہا کہ تم جاؤ اور بادشاہ کو یہ خبر پہنچا آؤ۔اگر کوئی اور گیا تو وہ یقیناً مارا جائے گا۔لیکن اگر تم گئے تو ممکن ہے بادشاہ تمہیں معاف کر دے کیونکہ تمہارا اُس کو لحاظ ہے۔گویا جہاں تک موت کا تعلق ہے اس کا موقع تمہارے لیے بھی اُتنا ہی ہے جتنا ہمارے لیے۔لیکن تمہارے ساتھ چونکہ بادشاہ کو محبت ہے اس لیے ممکن ہے کہ وہ تمہیں معاف کر دے۔وہ تیار ہو گیا۔آدمی ہوشیار تھا، جاتے ہی بادشاہ سے کہنے لگا حضور! گھوڑا بالکل آرام میں ہے۔اسے کوئی تکلیف نہیں۔وہ اطمینان سے لیٹا ہوا ہے۔نہ وہ تڑپتا ہے نہ وہ دم ہلاتا ہے، نہ کان ہلاتا ہے اور نہ آواز نکالتا ہے، نہ حرکت کرتا ہے نہ آنکھیں کھولتا ہے بالکل خاموش لیٹا ہوا ہے۔بادشاہ نے کہا تو یوں کہو کہ وہ مر گیا ہے۔اس نے کہا حضور! میں نے یہ الفاظ نہیں کہے کہ وہ مر گیا ہے یہ حضور خود فرما رہے ہیں۔تو جیسے اُس نوکر نے کہا تھا کہ گھوڑا بالکل آرام میں ہے، وہ خاموش لیٹا ہوا ہے۔نہ کان ہلا تا ہے، نہ دُم ہلاتا ہے، نہ سانس لیتا ہے، نہ حرکت کرتا ہے، وہی کچھ تم کرتے ہو۔کہتے ہو فلاں بڑا بزرگ اور نیک ہے، صرف چندہ نہیں دیتا، فلاں بڑا بزرگ اور نیک احمدی ہے صرف نماز نہیں پڑھتا، فلاں بڑا بزرگ اور نیک احمدی ہے، صرف جھوٹ بولتا ہے، فلاں بڑا بزرگ اور نیک احمدی ہے صرف خائن ہے۔تم اپنی حماقت سے اُس کی بزرگی کا ڈھنڈورا