خطبات محمود (جلد 35) — Page 132
$1954 132 خطبات محمود پیٹتے ہو حالانکہ روحانی طور پر وہ مُردہ ہوتا ہے۔اگر وہ اسی طرح سڑتا ، جس طرح جسمانی مُردہ کی سڑا کرتا ہے تو سارا محلہ اُس کی بدبو سے بھاگ اُٹھتا۔مگر روح کی سڑاند ایسی چیز ہے کہ فرشتوں کو تو وہ محسوس ہوتی ہے لیکن انسان اسے محسوس نہیں کرتے۔اس لیے جسم کی سڑاند سے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں لیکن روح کی سڑاند کے باوجود وہ اُسے بزرگ بھی کہتے جاتے ہیں، اُسے نیک بھی قرار دیتے چلے جاتے ہیں، اُسے مخلص بھی بتاتے جاتے ہیں۔گویا تمہاری حُسنِ ظنی اتنی زیادہ ہوتی ہے یا تمہاری دین سے لا پرواہی اور استغناء اتنا زیادہ ہے کہ ایک سڑی ہوئی لاش تمہارے سامنے پڑی ہوتی ہے اور تم اُسے زندہ کہتے ہو۔اگر تم میں دین کی محبت کا ذرا بھی احساس ہوتا تو تم سمجھتے کہ یہ لوگ مر گئے ہیں اب ہمیں ان کو دفن کر دینا چاہیے۔اور اگر ابھی وہ مرے نہیں صرف روحانی بیمار ہیں تو جس طرح کوئی جسمانی بیمار ہوتا ہی ہے تو تم اُس کا علاج کرتے ہو اُسی طرح تمہارا فرض تھا کہ تم اُن کا علاج کرتے اور اُن کی ای رستی کی کوشش کرتے۔انسان کا جسم چونکہ مُردہ ہو جاتا ہے اور سب لوگ اُس کو جانتے ہیں اس لیے جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو لوگ اُس کا علاج کرتے ہیں اور وہ اُسے موت سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر انسانی جسم میں تعفن نہ پیدا ہوتا اور اس میں سڑاند پیدا نہ ہوتی تو شاید لوگ اپنے ماں باپ کا بھی علاج نہ کرتے اور وہ سمجھتے کہ اگر یہ مر بھی گئے تو ہم انہیں کرسیوں پر بٹھا رکھیں گے اور ان کو دیکھتے رہیں گے۔لیکن محض اس وجہ سے کہ انسانی جسم سر جاتا ہے، اس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں خواہ کوئی کتنا بھی پیارا ہو مرنے کے بعد انسان چاہتا ہے کہ اسے جلدی دفن کر دے تا کہ اس کی سڑاند اور بُو اُسے پریشان نہ کر دے۔مگر روحانی طور پر سڑنے کی دوسرے شخص کو بد بو نہیں آتی۔اس لیے ان کے مرنے کے باوجود تم کوشش کرتے جاتے ہو کہ انہیں زندہ قرار دو۔حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ جس طرح انسان جسمانی طور پر مرتا ہے اُسی طرح وہ روحانی طور پر بھی مرتا ہے۔اگر وہ روحانی طور پر مرنے والے کی مختلف کیفیتیں ہم محسوس کریں تو ہم اُن کی موت سے بہت پہلے ان کے علاج میں مشغول ہے جائیں۔مگر ہم ان کا علاج نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مر جاتے ہیں۔اور جب مر جاتے ہیں تو سل اور دِق کی طرح اُن کی بیماری ہمارے اندر بھی پیدا ہو جاتی ہو