خطبات محمود (جلد 35) — Page 117
$1954 117 خطبات محمود ہوں تاکہ بعد میں ہماری موت سے اُن کو تکلیف نہ ہو۔چنانچہ پٹھان اپنے گھر گیا اور اُس نے اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دیا۔اس کے بعد وہ اس دکاندار کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا میں تو اپنے بیوی بچوں کو مار آیا ہوں۔کیا تم بھی مار آئے ہو؟ اُس نے کہا نہیں۔میں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور میں اپنی مونچھیں نیچی کر لیتا ہوں اور اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔تم اسی طرح اگر تم نے زندہ رہنا ہے تو تمہیں کچھ کام کر کے دکھانا ہو گا۔اس کے بغیر زندہ رہنے کا خیال بالکل غلط ہے۔جماعت کو اب ان باتوں پر غور کرنا چاہیے، ان کا علاج سوچنا چاہیے اور پھر اس پر دوسرے ساتھیوں سے بحث کرنی چاہیے اور تبادلۂ خیالات سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا چاہے۔اگر تم عملی طور پر جدوجہد نہ کرو گے تو ذلت کی موت مرو گے۔لیکن اگر تم زندہ رہنے کا صحیح طریق اختیار کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں مرنے نہیں دے گا۔اور اگر مرو گے بھی تو خدا تعالیٰ کی رحمت تمہارے شامل حال ہو گی۔لیکن دوسری صورت میں دنیا کے لوگ بھی تم پر لعنت کریں گے اور خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی تم پر لعنت بھیجیں گے۔پس تم اپنے حالات پر غور کر کے صحیح لائن اختیار کرو۔یاد رکھو! جو کام خدا تعالیٰ۔تمہارے سپرد کیا ہے وہ تم ہی کرو گے۔خدا تعالیٰ نے نہیں کرنا۔اور جو کام خدا تعالیٰ کے سپرد ہیں وہ خدا تعالیٰ خود کرے گا۔جب تم اپنی جان، مال، آبرو اور ہر عزیز چیز کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ گے اور قرآن کی ہدایتوں پر عمل کرو گے تو پھر جو کسر باقی رہ جائے گی خدا تعالیٰ اُسے پورا کر دے گا۔لیکن اگر تم قرآن کریم کے سب احکام پر عمل نہ کرو اور صرف چندہ دینا کافی سمجھو تو اس جہان میں بھی تم پر لعنت ہو گی اور آخرت میں بھی تم پر لعنت ہو گی۔پس تم اپنے حالات کے ہر پہلو پر غور کرو اور قرآن کریم پر غور کر کے تدابیر سوچو۔پھر دوسروں سے تبادلہ خیالات کر کے کسی نتیجہ پر پہنچو۔قرآن کریم تمہارے پاس ہے۔اس میں جائز قانون کے مطابق لڑائی کرنے کا طریق بھی موجود ہے۔اس میں جائز قانون کے مطابق صبر کرنے کا طریق بھی موجود ہے۔اس میں جائز قانون کے مطابق عفو کرنے کا طریق بھی موجود ہے۔اس میں جائز قانون کے مطابق اعتراضات کے جواب سنے کا