خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 2

$1954 2 خطبات محمود موقع پر جماعت کے مردوں اور عورتوں کے سامنے رکھی ہیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور کا ہر تعلیم یافتہ عورت جماعت کے کسی ایک مرد یا عورت کو جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے کی معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ ہے۔تمام پاکستان میں مردوں کا ساڑھے تیرہ فیصدی حصہ تعلیم یافتہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں یہ نسبت 20، 25 فیصدی ضرور ہے۔اور اگر جماعت کے 25،20 فیصدی لوگ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس سال 20، 25 فیصدی اور لوگ تعلیم یافتہ ہو سکتے ہیں۔گویا اگر ہم عزم کر لیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں تو اگلے سال ہماری 50 فیصدی تعداد تعلیم یافتہ ہو جائے گی۔پھر اگر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ گو ربوہ میں عورتیں تعلیم کے لحاظ سے مردوں سے بہت زیادہ آگے ہیں لیکن باہر کی جماعتوں میں عورتوں کی تعلیم کا یہ معیار نہیں۔اگر ہم عورتوں کے لحاظ سے وہی معیار لے لیں جو دوسرے مسلمانوں میں مردوں کا ہے تب بھی جماعت کی ساڑھے تیرہ فیصدی عورتیں تعلیم یافتہ ہیں۔اگر جماعت کی ہر لکھی پڑھی عورت کم سے کم ایک اور عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اگلے سال تعلیم یافتہ عورتوں کی تعداد 25 فیصدی ہو جائے گی۔اس طرح اگلے دو سال کی جدو جہد میں ہم سب کو تعلیم یافتہ بنا دیں گے اور یہ کام مشکل نہیں۔ہر شخص اگر غور کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی ایک شخص کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھانا کوئی مشکل امر نہیں۔لکھنا سکھانے سے میرا مطلب نہیں کہ اسے کا تب بنا دیا جائے۔اسی طرح پڑھنا سکھانے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ دوسرا شخص عالم بن جائے۔بلکہ معمولی لکھنا پڑھنا سکھانے سے میری یہ مراد ہے کہ وہ حروف جوڑ سکے اور اردو کے الفاظ کو ادا کر سکے اور چونکہ یہ ہماری اپنی زبان ہے اس لیے وہ آگے جلد ترقی کرے گا۔پس یہ کوئی مشکل امر نہیں محض ارادہ اور قوت عمل کی ضرورت ہے۔اگر ہم ارادہ ہے کر لیں اور پھر اپنے اندر قوت عمل پیدا کریں تو یہ کام اسی طرح ممکن ہے جس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شام کی روٹی پکالے یا کل کے کھانے کے لیے تیاری کر لے۔یہ اسی طرح ممکن۔جس طرح کوئی شخص ہفتہ میں ایک بار، دو بار، تین بار، چار بار، پانچ بار، چھ بار یا سات بار نہا لے اور جسم کی صفائی کرے۔اگر کوئی دقت ہے تو محض یہ ہے کہ ہم اس کے لیے ارادہ اور عزم ہے