خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 3

$1954 3 خطبات محمود نہیں کرتے۔پس ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور ہر تعلیم یافتہ عورت کا سے کم کسی ایک مرد یا عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے۔اور زیادہ ہو جائے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے۔دوسری بات میں نے یہ پیش کی تھی کہ اس سال تمام جماعت میں تحریک جدید کو مضبوط کیا جائے۔جماعت کا ہر فرد چھوٹا ہو یا بڑا، عورت ہو یا مرد تحریک جدید میں حصہ لے۔اور اس کی بھی جو صورت میں نے پیش کی ہے اس میں کوئی مشکل نہیں۔اور وہ صورت یہ ہے کہ تحریک جدید میں کم سے کم پانچ روپے دے کر ہر شخص شامل ہو سکتا ہے۔اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر حصہ لینے والا پانچ روپے دے بلکہ اگر کوئی ایک روپیہ دے سکے تو پانچ آدمی مل کر ایک آدمی کے وجود کے طور پر پانچ روپیہ لکھا دیں۔اور اگر فرض کرو وہ ایک ایک روپیہ بھی نہیں دے سکتے آٹھ آٹھ آنہ دے سکتے ہیں تو دس آدمی مل کر ایک وجود کے طور پر پانچ روپے لکھا دیں۔بہر حال ایک دفعہ یہ کوشش کی جائے کہ جماعت کا کوئی فرد تحریک جدید سے باہر نہ رہے۔اگر ہم اس سال ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو میرا وسیع تجربہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص نیکی کی طرف کوئی قدم اُٹھاتا ہے اُسے بعد میں اس کو پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ جو لوگ پانچ پانچ روپے دے کر تحریک جدید میں شروع میں شامل ہوئے تھے انہوں نے اس دور کو چار چار، پانچ پانچ سو روپیہ پر ختم کیا ہے۔میں جب کہتا ہوں کہ جماعت کا ہر فرد ایک ایک روپیہ یا آٹھ آٹھ آنے دے کر تحریک جدید میں شامل ہو جائے تو میں جانتا ہوں کہ وہ ایک جگہ پر کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ یہ ایک روپیہ یا آٹھ آنے انہیں گھسیٹ کر آگے چلے جائیں گے اور وہ ایک روپیہ یا آٹھ آنے سے سو، دو سو یا پانچ سو اور ہزار روپیہ تک چلے جائیں گے۔تیسری تحریک جو میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر کی یہ تھی کہ ہر احمدی زمیندار جو فصل عام طور پر کاشت کرتا ہے وہ اس کا 1/20 فیصدی زیادہ ہوئے اور اس کی آمدنی تحریک جدید میں دے۔مثلاً ایک شخص ہیں کنال فصل بوتا ہے تو وہ اکیس کنال فصل بوئے اور اس ایک کنال کی آمد محض خدا تعالیٰ کے لیے وقف کرے تا کہ اس ހނ غیر قوموں