خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 78

1954ء 78 خطبات محمود حیثیت رکھتا ہے لیکن اب وہ کیفیت نظر نہیں آتی۔ اب لوگ مسافروں کی طرح آتے اور چلے جاتے ہیں۔ ان کے متعلق جماعت کے دوستوں میں وہ شوق اور انس نہیں رہا جو پہلے پایا جاتا تھا۔ 1919ء، 1920ء اور 1921 ء تک یہ کیفیت تھی کہ میرے لاہور آنے پر سیالکوٹ، جہلم، گجرات، شیخوپورہ اور منٹگمری وغیرہ اضلاع کے احمدیوں میں سے اکثر یہاں اکٹھے ہو جاتے اور اُن کا لاہور میں قریباً اُس وقت تک قیام رہتا جب تک میں یہاں موجود رہتا۔ مگر اب جماعت کی تعداد تو زیادہ ہو گئی ہے مگر اس میں وہ بات نہیں رہی جو پہلے پائی جاتی تھی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اس مقام کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانا جو انہیں پہلے حاصل تھا۔ اگر وہ آنے والوں سے اُسی محبت اور پیار کے ساتھ پیش آتے جس محبت اور پیار سے وہ پہلے پیش آیا کرتے تھے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ لوگ یہاں کثرت کے ساتھ نہ آتے رہتے۔ میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے دوستوں میں ایمان کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔ صرف کچھ لوگوں میں اپنی ذمہ داری کے احساس میں کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔ اگر یہاں کی جماعت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی تو یقیناً یہاں پہلے سے بھی زیادہ لوگ آتے۔ بہر حال ابتدائی ایام میں لوگوں نے اپنی ذمہ داری سمجھی اور خدا تعالیٰ نے بھی کہا:۔ ”لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں۔ ان کو اطلاع دی جاوے۔ نظیف مٹی کے ہیں وسوسہ نہیں رہے گا مگر مٹی رہے گی۔4 گویا اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے الہام میں لاہور کے متعلق خبر دی کہ کسی زمانہ میں فتنہ بھی لاہور سے کھڑا ہو گا مگر اس کا تریاق بھی لاہور سے ہی پیدا ہو گا۔ اور جن جماعتوں کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی توفیق ملے اور جن کا خدائی پیشگوئیوں میں بھی ذکر آ جائے اُن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس خصوصیت کو قائم رکھیں اور اس فخر کو آئندہ کے لیے ہمیشہ نیکیوں میں ترقی کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ پھر میں کہتا ہوں اگر باہر سے آنے والوں کو جانے دو اور تم صرف اپنے لوگوں کو ہی سہارا دو تو میرے نزدیک ہر پرانے خاندان میں سے دو چار افراد ایسے ضرور نکل آئیں گے جن میں کچھ کمزوری ہوگی۔ اگر تم ان کی طرف توجہ کرو گے تو یقیناً وہ مخلص بن جائیں گے