خطبات محمود (جلد 35) — Page 48
$1954 48 خطبات محمود اور اُسی شکل میں ریل میں پورا ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا تقدیر مبرم تھا لیکن خدا تعالیٰ۔کہا چلو ان کی بات بھی پوری ہو جائے اور اپنی بات بھی پوری ہو جائے۔یہی واقعہ ہم ریل میں کرا دیتے ہیں۔اس سے ہماری بات بھی پوری ہو جائے گی اور ان کی دعا بھی قبول ہو جائے گی۔پس یہ واقعہ ہمارے لیے زائد یقین اور ایمان کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کی وجہ سے اپنی تقدیر مبرم کو بدل دیا۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا۔مثلاً نواب صاحب کا لڑکا عبدالرحیم بیمار ہو گیا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پتا لگا کہ وہ اب بچ نہیں سکتا۔اس پر آپ نے خاص طور پر اُس کی صحت کے لیے دعا شروع فرما دی اور اس دعا کے نتیجے میں وہ بچ گیا۔اسی طرح مبارک احمد کے متعلق بھی آتا ہے کہ جب اُس کی نبضیں چھٹ گئیں تو آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ سانس دے دیا۔پس ریل کا یہ حادثہ خدا تعالیٰ کی تقدیر مبرم پر دلالت کرتا ہے۔اس نے ہماری دعاؤں اور صدقہ اور قربانی کی وجہ سے ایک ایسی تقدیر کو بدل دیا جس کو عامہ حالات میں وہ بدلا نہیں کرتا۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانے اور اسے تقویت دینے کے کئی سامان عطا فرمائے ہیں۔اگر ہم ان کے بعد بھی اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتے اور سستی سے کام لیتے ہیں تو یہ ہماری انتہائی بدقسمتی ہو گی۔دنیا تو ابھی اندھیرے میں ہے اور اسے پتا نہیں کہ خدا ہے یا نہیں، اسے پتا نہیں کہ خدا تعالیٰ بولتا ہے یا نہیں، اسے علم نہیں کہ خدا تعالیٰ سچا ہے یا نہیں۔لیکن ہمارے لیے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ پہلے موجود تھا، نہ صرف یہ کہ وہ پہلے سنتا تھا اور بولتا تھا بلکہ وہ ہمیں یہ دکھا رہا ہے کہ میں اب بھی سنتا ہوں، میں اب بھی بولتا کی اور اب بھی اپنے بندوں کی مدد کرتا ہوں۔ان انعامات کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہمارے دلوں کے زنگ دور کر دے۔کیونکہ اگر اس کے بعد بھی ہمارے دلوں میں قربانی کے لیے تنگی محسوس ہوتی ہے، ان میں انقباض پیدا ہوتا ہے تو یہ ہمارے دلوں کے زنگ کی وجہ سے ہے۔اگر سورج نکلا ہوا ہو اور پھر بھی وہ کسی شخص کو نظر نہ آئے تو ی