خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 435

1954ء 435 خطبات محمود ابھی وہ زمانہ ہے جبکہ ہماری باگیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ ایک وقت تک جماعت کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ جب تک ہماری جماعت کی باگیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اُس وقت تک ہماری مثال اُس گھوڑے کی سی ہے جو گاڑی میں جتا ہوا ہو۔ جس طرف گاڑی والا گھوڑے کو پھیرے گا وہ اُسی طرف پھرے گا۔ لیکن جب وہ باگیں چھوڑ دے گا تو وہ جس طرف چاہے گا چل پڑے گا۔ چرا گاہ والے گھوڑے اور گاڑی میں جتے ہوئے گھوڑے سے ایک سا سلوک نہیں ہوتا۔ چرا گاہ والا گھوڑا جہاں چاہے جاتا ہے لیکن گاڑی میں بجتا ہوا گھوڑا اپنے مالک کی مرضی پر چلتا ہے۔ اُس کا مقصد گاڑی کھینچنا ہوتا ہے اس لیے وہ سیدھا چلتا چلا جاتا ہے۔ ہماری حالت بھی اس وقت گاڑی میں جتے ہوئے گھوڑے کی سی ہے۔ جس طرح ایک چراگاہ والے گھوڑے کو دیکھ کر اگر گاڑی میں جتا ہوا گھوڑا یہ چاہے کہ وہ آزاد پھرے تو یہ اُس کی بیوقوفی ہو گی۔ اسی طرح ہماری جماعت بھی دوسری جماعتوں کو دیکھ کر ان کے پیچھے چلنا چاہے تو یہ درست نہیں ہو گا۔ جماعت کے سامنے دو ہی صورتیں ہیں یا تو وہ سیدھی چلتی چلی جائے اور یا وہ کوڑے کھانے کے لیے تیار رہے۔ تم جب کہتے ہو کہ ہم ایک مامور کو ماننے والے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ہم ایک گاڑی میں جتے ہوئے ہیں۔ اب اگر ایک گاڑی میں جتا ہوا گھوڑا یہ خیال کرے کہ اُس سے چراگاہ میں چرنے والے گھوڑے کا سا سلوک ہو گا تو درست نہیں۔ اسی طرح تمہارے ساتھ بھی دوسرے لوگوں کا سا سلوک نہیں کیا جا سکتا ۔ جہاں تمہارے ساتھ انعامات اور فضل کے وعدے ہیں وہاں کوڑوں کے بھی وعدے ہیں۔ پس تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور اپنے اعمال کا جائزہ لو۔ جو سال ختم ہوا ہے اُسے آئندہ کے لیے نیک عزم اور نیک ارادوں کے ساتھ ختم کرو۔ اور بیشک دنیا کماؤ لیکن دین کو بھی نظر انداز نہ کرو بلکہ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم الفضل 18 جنوری 1955ء) رکھو۔ 1 : آل عمران : 98 - :2 وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَأَتَيْتُمْ إِحْدُهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا (النساء : 21)