خطبات محمود (جلد 35) — Page 433
1954ء 433 خطبات محمود بڑی بڑی ایجادوں میں لگی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں نے بڑے بڑے تجربات کے بعد سلفونا مائیڈ اور )Chloromycetin( کلور و ماکسین ، )Sulphonamide Penicillin( پنسلین اسی قسم کی دوائیں ایجاد کر لی ہیں۔ اسی طرح ہرفن کے لوگ اپنے اپنے فن میں نئی ایجادیں کرنے میں مشغول ہیں۔ روحانی لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس بیماری کی گنہہ کو معلوم کریں اور اسے پکڑنے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی حرکات سے خیالات بدلتے جاتے ہوں۔ جیسے ریل کے کانٹے بدلتے ہیں، ریل یکدم چکر نہیں کاٹ جاتی بلکہ آہستہ آہستہ چکر کاٹتی ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے کانٹے ایک تغیر پر دلالت کرتے ہیں۔ اگر دنیوی لوگوں نے اس قسم کی ایجادیں کی ہوئی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ مذہبی لوگ اپنے آپ کو اس طور پر نہ لگائیں کہ وہ انسانی دماغ کے کانٹے کو معلوم کریں۔ اس کے بعد نوجوانوں کو تحریک کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس رنگ میں ڈھال لیں اور والدین کو تحریک کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک صوفی کا یہ قول بہت پسند ہے کہ چاہے دست در کار دل بایار یعنی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان دنیا کے کام بھی کرے اور خدا تعالیٰ کو بھی یاد رکھے۔ لیکن یہاں یہ حال ہے کہ دست درکار ہوا تو دل یار سے جُدا ہو گیا۔ دنیا کے نزدیک یہ چیز ہے کتنی اچھی ہو دین کے لحاظ سے یہ چیز اچھی نہیں۔ پرانے لوگوں میں سے بعض نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ دست درکار نہیں ہونا چاہیے۔ اِس وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کو نہایت ذلیل بنا لیا۔ اور بعض نے یہ سمجھ لیا کہ دل بایار نہیں ہونا چاہیے صرف دست درکار ہونا کافی ہے۔ پس دنیا میں دو کیمپ بن گئے ۔ جس طرح اس وقت سیاسی لحاظ سے دو کیمپ ہیں ایسٹرن اور ویسٹرن۔ اِسی طرح مذہبی لحاظ سے بھی دو کیمپ ہیں۔ ایک کیمپ والے دین کو بیکار سمجھتے ہیں اور دوسرے کیمپ والے دنیا کو بیکار سمجھتے ہیں حالانکہ صداقت ان کے درمیان درمیان تھی ۔ صداقت یہ تھی کہ دین کے ساتھ ساتھ دنیا بھی کمائی جائے۔