خطبات محمود (جلد 35) — Page 430
$1954 430 خطبات محمود جو دلائل تھے وہی دلائل اب بھی ہیں۔خدا تعالیٰ بھی نہیں بدلا، رسالت بھی نہیں بدلی، مابعد الموت بعثت کے متعلق بھی کوئی نئی شکل پیدا نہیں ہوئی مگر باوجود اس کے دنیا پر یہ دور آتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کبھی لوگ ماننے لگ جاتے ہیں اور کبھی منہ پھیر لیتے ہیں، کبھی انہیں کسی رسول پر ایمان لانے کی توفیق ملتی ہے اور کبھی اس پر ایمان لانے کی توفیق نہیں ملتی ، کبھی انہیں موت کے بعد کی زندگی پر یقین ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔اگر ان کے دلائل اور براہین بدلتے ، تو ہم کہتے کہ دلائل اور براہین کے بدلنے سے ان کی حالت بدل گئی ہے۔لیکن دلائل وہی نظر آتے ہیں جو پہلے تھے۔یہ کہ کسی زمانہ میں کسی مامور کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے بعض نشانات ظاہر ہوئے تو یہ اور بات ہے۔آدم کے زمانہ سے زمانہ کے حالات کے مطابق نشانات بدلتے رہے ہیں۔اگر کسی وقت کسی نبی نے اپنے بیٹے کی پیدائش کی یا اپنی جماعت کی ہجرت کی خبر دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلالت کرنے والا ایک نشان بن گیا تو یہ نشان کی بہرحال ایک نشان ہی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی توحید کے جو دلائل پہلے تھے وہی اب بھی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ کسی نے زبان کے محاورہ کے مطابق یا اُس زمانہ کے لوگوں کے خیالات کے مطابق انہیں کسی اور رنگ میں بیان کر دیا لیکن مغز تقریر یہ ہے کہ خدا ایک ہے، اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اب ایک ہی قسم کے دلائل کے ہوتے ہوئے جو زمانہ بدلتا رہتا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ انسان اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔اور جب ماحول میں بھی ایک شیر ہوتی ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کونسا ماحول ہوتا ہے جس سے انسان متاثر ہوتا ہے۔اگر کوئی نبی دنیا میں آتا ہے اور وہ ایک نئی جماعت پیدا کر جاتا ہے، وہ لوگوں میں کی خدا تعالی کی ہستی پر یقین پیدا کر جاتا ہے یا بعث بعد الموت پر یقین پیدا کر جاتا ہے اور ساری قوم ایک رنگ میں رنگین ہو جاتی ہے تو پھر وہ کون سا ماحول ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں ایمانور میں کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اگر یہ ہوتا کہ وہ ایک ملک میں ہوتا تو اور حالت ہوتی اور دوسرے ملک میں ہوتا تو اور حالت ہوتی، تو ہم کہتے ملکی یا قومی ماحول بدل گیا ہے لیکن واقع یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی ماحول تھا۔وہی آپ کے صحابہؓ کو ملا، پھر تابعین ہوئے اور پھر تبع تابعین ہوئے مگر جو یقین صحابہ کو حاصل تھا وہ تابعین اور