خطبات محمود (جلد 35) — Page 431
$1954 431 خطبات محمود تبع تابعین کو حاصل نہ تھا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ ماحول جو بدلتا ہے وہ زیادہ تر اقتصاری بناء پر بدلتا ہے۔ہمیں یہ چیز ہر نبی کے زمانہ میں نظر آتی ہے کہ اس کی جماعت میں آہستہ آہستہ ترقہ اور مالی ترقی پیدا ہوتی ہے اور پھر یہ چیز لازمی نظر آتی ہے کہ ظاہری اموال اور دولت کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایمان کم ہوتا جاتا ہے۔جب تک اموال کی زیادتی نہیں ہوتی اُس وقت تک ایمان باقی رہتا ہے اور جوں جوں ترقہ اور مالی ترقی آتی جاتی ہے ایمان کمزور ہوتا جاتا ہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یا تو ہم یہ سمجھیں کہ جب کسی نبی کے اردگرد غرباء اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ اس خیال سے جمع ہوتے ہیں کہ اس کے ماننے سے انہیں دنیا ملے گی۔جیسے ہندوؤں اور یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ نبی کا سب سے بڑا کام اور پیغام یہی ہوتا ہے کہ اُس کے ماننے۔لوگوں کو دنیا ملتی ہے۔یہودیوں کی کتابوں میں مرنے کے بعد کی زندگی کا بہت کم ذکر ہے۔یہی حال ہندو کتابوں کا ہے۔ہندو سمجھتے ہیں کہ نبی آنے کے نتائج دنیوی ترقی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔اور جب اُن کی کتابوں میں یہ چیز موجود ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی نبی دنیا میں آتا ہے تو اُس کے ماننے سے لوگوں کو دنیا ملتی ہے تو وہ اُسے مانتے ہی اس لیے ہیں۔لیکن بعض قو میں ایسی بھی ہیں جن میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔مثلاً عیسائی ہیں ان کی کتابوں میں مابعد الموت زندگی پر یہود سے زیادہ زور ہے، زرتشتیوں میں بھی اس پر یہودیوں سے زیادہ زور ہے، اسلام کے زمانہ میں انسانوں کی کمزوری دیکھ کر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے تدبیر کی کہ قرآن کریم میں اگلے جہان کی ترقی کے الفاظ سے اسی دنیا کی ترقی کی خبر دی گئی اور اسی لیے عیسائیوں نے قرآن کریم پر یہ الزام لگایا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی نشان نہیں پایا جاتا۔در حقیقت قرآن کریم میں جو دنیوی فتوحات کا ذکر آتا ہے وہ بھی اگلے جہان کے انعامات کے ذکر میں آتا ہے۔یعنی مراد اس سے فلسطین اور مصر کی فتوحات ہوتی ہیں لیکن الفاظ اس قسم کے کی استعمال کیے جاتے ہیں جو اگلے جہان پر دلالت کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے خدا تعالیٰ کا لوگوں کو یہ ہدایت دینا مقصود ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا اصل مقصود اگلا جہان ہے۔لیکن بعض لوگ اس رو میں بہہ گئے کہ انہیں دنیوی ترقیات مل جائیں۔صحابہؓ کے بعد جو جماعت آئی اُن کا بڑا ا کام یہی نظر آتا ہے کہ انہیں کوئی دنیوی فتح مل جائے یا کر نیلی اور جرنیلی مل جائے۔